جمعہ‬‮ ، 21 اگست‬‮ 2026 

’’میری کونسی غلطی تھی ‘‘قومی سلامتی کمیٹی میں بیان کو مسترد کرنے پر نوازشریف برہم، وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے استعفیٰ دیدیا،خبر رساں ادارے کے انکشافات

datetime 14  مئی‬‮  2018 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) وزیراعظم کی جانب سے قومی سلامتی کے اجلاس میں ممبئی حملوں کے بیان کو مسترد کرنے پر نوازشریف شاہد خاقان عباسی پر برہم ہوگئے ، سابق وزیراعظم طنزیہ انداز میں شاہد خاقان عباسی سے سوال کرتے ہوئے کہہ دیا کہ اجلاس میں میرے بیان کو مسترد کرکے کیا حاصل ہوا ؟ اور آپ مجھے بتائیں کہ میرے انٹرویو میں کونسی غلطی تھی؟جبکہ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ آپ میرے لیڈر ہیں جو بھی احکامات دیں گے

ان پرعمل کیا جائے ۔ذرائع کے مطابق سوموار کو قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس کے بعد وزیراعظم شاہد خاقان عباسی میاں منیر کے گھر نوازشریف سے ملاقات کے لئے گئے تو میاں نوازشریف شدید غصے میں تھے اور انہوں نے شاہدخاقان عباسی سے آتے ہی طنزیہ انداز میں سوال کیا کہ قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں میرے بیان کو مسترد کرکے کیا حاصل ہوا ؟ اور آپ مجھے بتائیں کہ میرے انٹرویو میں کونسی غلطی تھی جس پر شاہد خاقان عباسی قدرے خاموش رہنے کے بعد بولے کہ آپ میرے لیڈر ہیں جو احکامات آپ دیں گے ان پر عمل کیا جائے گا۔ذرائع کے مطابق نوازشریف نے کہا کہ آپ کی جانب سے میرے بیان کے توثیق ناگزیر ہے تاہم کچھ دیر بعد نامعلوم فون کال کے بعد نوازشریف نے وزیراعظم کو پنجاب ہاؤس جانے کا مشورہ دیا ۔پنجاب ہاؤس ذرائع کے مطابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی پنجاب ہاؤس آئے تو وہاں ان کا ایک بیان ریکارڈ کیا گیا جس میں انہوں نے نوازشریف کے بیان کی نہ صرف توثیق کی بلکہ ذرائع کا کہنا ہے کہ اپنے استعفیٰ سمیت سب کچھ نوازشریف کے قدموں میں ڈال دیا اور اس موقع پر سرکاری ٹی وی سمیت تمام تر میڈیا کو بلیک آؤٹ کرکے تاثر دیا گیا کہ کچھ دیر بعد باقاعدہ پریس کانفرنس کی جائے گی تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم کا ویڈیو بیان ریکارڈ ہونے کے بعد نااہل وزیراعظم نوازشریف کو ان کا بیان دکھایا گیا تو انہوں نے چند الفاظ کا چناؤ کرکے میڈیا کو جاری کرنے کا کہا

جبکہ چند اقتباسات کو استعمال کرنے کے لئے محفوظ کرلیا گیا۔ اس موقع پر میڈیا نمائندگان وزیراعظم کی میڈیا ونگ سے بار بار رابطے کرتے رہے تو وہاں جواب موصول ہوا کہ شاہد خاقان عباسی کی پریس کانفرنس کو وزارت انفارمیشن ڈائریکٹ دیکھ رہی ہے اس میں وزیراعظم ہاؤس کے میڈیا ونگ کا کوئی کردار نہیں ہے ۔پنجاب ہاؤس ذرائع کے مطابق وزارت اطلاعات نے تمام تر اقدامات مریم نوازشریف کے کہنے پر کیے اور ایک خصوصی انٹرویو وزیراعظم سے حاصل کرلیا گیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…