جمعرات‬‮ ، 01 اکتوبر‬‮ 2026 

جیب سے ہاتھ نکال کر عدالت میں کھڑے ہو، ایک تو تمہارے دورمیں اتنا نقصان ہوا وپر سے۔۔صرف ایک سال میں پی آئی اےکے کتنے لاکھ مفت ٹکٹ ریوڑیوں کی طرح بانٹے گئے؟چیف جسٹس کا سابق مشیر ہوابازی کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کا حکم

datetime 8  مئی‬‮  2018 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)آج سپریم کورٹ میں چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے پی آئی اے نجکاری کیس کی سماعت کی۔ وزیراعظم کے سابق مشیر ہوابازی شجاعت عظیم اور موجودہ مشیر مہتاب عباسی بنچ کے سامنے پیش ہوئے۔سماعت کے دوران وزیراعظم کے سابق مشیر برائے سول ہوا بازی شجاعت عظیم کی چیف جسٹس نے سرزنش کر دی۔ چیف جسٹس نے انہیں مخاطب کرکے کہا ”شجاعت عظیم آپ عدالت میں جیب سے ہاتھ باہر نکال کر کھڑے ہوں، آپ ملک سے باہر نہیں جا سکتے، پی آئی اے میں نقصان آپ کے دور میں ہوا ہے، کیا نیب حکام یہاں موجود ہیں، کیا یہ معاملہ نیب کو بھجوادوں؟ “۔شجاعت عظیم نے کہا کہ وہ 2 سال مشیر ہوا بازی رہے ان کا تعلق پی آئی اے سے نہیں ہوابازی سے تھا۔ چیف جسٹس نے شجاعت عظیم کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کا حکم دیتے ہوئے کیس کی مزید سماعت 2 ہفتوں کیلئے ملتوی کردی۔ چیف جسٹس نے پی آئی اے کے سابق ایم ڈیزکو اپنے جوابات سوچ سمجھ کر داخل کروانے کی ہدایت کی۔چیف جسٹس کی سربراہی میںسپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ کوماہر معیشت فرخ سلیم نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ 2008سے 2017تک پی آئی اےنے مفت ٹکٹوں کا جمعہ بازار لگائے رکھا۔ فرخ سلیم نے عدالت کو آگاہ کیا کہ 2013میں پی آئی اے کے 2لاکھ 87ہزارٹکٹس بانٹے گئے اور صرف ایک سال میں پانچ ارب روپے کا نقصان ہوا۔جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ یہ مفت میں ٹکٹس کس کو دیے گئے ۔انہوں نے کہا کہ یہ معاملہ بعد میں دیکھیں گے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…