پیر‬‮ ، 23 فروری‬‮ 2026 

’’چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کیلئے 24ملین روپے کی گاڑی تیار‘‘ چیف جسٹس ثاقب نثار کا اظہار برہمی، مجھے پہلے اپنا گھر ٹھیک کرنا ہے، کس کس کے پاس سرکاری لینڈ کروزر ہے؟ ججز اور سرکاری افسروں کی تفصیلات طلب

datetime 28  اپریل‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)ججوں سمیت سرکاری افسروں کی لگژری گاڑیوں کے خلاف ازخود نوٹس کیس کی سماعت، چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ اہل نہیں تھے تو انہوں نے لینڈ کروزر کیوں لی؟ اگر ان کو گاڑی دے دی گئی تو سب لیں گے، اگر میں نے اپنے ادارے کو صاف نہ کیا تو دوسروں کے متعلق کیسے اقدامات اٹھا سکتا ہوں؟چیف جسٹس کے ریمارکس۔ تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس آف

پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کے لیے 24 ملین روپے کی گاڑی اور اس کی بلٹ پروفنگ کے حوالے سے ریمارکس دیتے ہوئے کہا ہے کہ جسٹس لاہور ہائیکورٹ اہل نہیں تھے تو انہوں نے لینڈ کروزر کیوں لی؟ اگر ان کو گاڑی دے دی گئی تو سب لیں گے، اگر میں نے اپنے ادارے کو صاف نہ کیا تو دوسروں کے متعلق کیسے اقدامات اٹھا سکتا ہوں؟وہ سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں ججوں سمیت سرکاری افسروں کی لگژری گاڑیوں کے خلاف از خود نوٹس کی سماعت کر رہے تھے۔ دوران سماعت چیف جسٹس پاکستان نے چیف سیکرٹری پنجاب سے استفسار کیا کہ چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کے لیے بھی گاڑی لے لی جس پر چیف سیکرٹری نے بتایا کہ چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کے لیے 24 ملین روپے کی گاڑی لی ہے جس کی بلٹ پروفنگ جاری ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ پہلے تو مجھے اپنا گھر ٹھیک کرنا ہے۔ اگر چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ اہل نہیں تھے تو انہوں نے لینڈ کروزر کیوں لی؟ اگر ان کو گاڑی دے دی گئی تو سب لیں گے۔چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ سرکاری ملازمین کو گاڑیاں دینے کا فیصلہ کون کرتا ہے، چیف سیکریٹری نے بتایاکہ مختلف اداروں کے پاس لگژری گاڑیاں موجود ہیں، سرکاری افسران کو گاڑیاں دینے کا فیصلہ متعلقہ بورڈ کرتا ہے، ہائیکورٹ کے 2 سے 3 ججوں کو بلٹ پروف گاڑیاں دی گئی ہیں،

چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کی گاڑی کو بلٹ پروف بھی کروایا جا رہا ہے۔جسٹس ثاقب نثار نےپاکستان بھر کے سرکاری افسران کے پاس لینڈ کروزرز گاڑیوں کی تفصیلات طلب کر لیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



چوہے کھانا بند کریں


ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…