جمعہ‬‮ ، 18 ستمبر‬‮ 2026 

(ن) لیگ کے دور حکومت میں کتنی صنعتیں بند ہوئیں؟ ترقی و خوشحالی کے دعوے کرنیوالوں کو پول کھل گیا

datetime 28  اپریل‬‮  2018 |

کراچی(سی پی پی)مسلم لیگ (ن )کے دور حکومت میں چھوٹی اور درمیانے درجے کی صنعتوں کی مشکلات میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔ 5 سال کے دوران 1ہزار سے زائد چھوٹی صنعتیں بند ہوگئیں جس سے 50 ہزار سے زائد گھرانوں کا روزگار ختم ہوگیا۔یونین آف اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائز کے صدر ذوالفقار تھاور کے مطابق نون لیگی حکومت کا دور چھوٹی اور درمیانے درجے کی صنعتوں کے لیے پرآشوب رہا ۔

روپے کی قدر میں کمی کی وجہ سے چھوٹی صنعتوں کی لاگت میں غیرمعمولی اضافہ ہوگیا، مہنگی بجلی اور گیس نے ایس ایم ایز سیکٹر کے مسائل بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا۔ذوالفقار تھاور نے کہا کہ بلند پیداواری لاگت کی وجہ سے ایس ایم ایز کی مسابقت کی صلاحیت مزید کم ہوگئی، وفاقی وزارت خزانہ 5 سال کے عرصے کے دوران معطل رہی، روپے کی قدر میں آفیشل کمی کے پہلے مرحلے میں وفاقی وزارت خزانہ نے دعوی کیاکہ روپے کی قدر میں مزید کمی نہیں کی جائے گی جو غلط ثابت ہوئی، روپے کی قدر کم ہونے سے خام مال کی قیمت مزید بڑھ گئی۔انہوں نے کہا کہ چھوٹی اور درمیانے درجے کی صنعتوں کے لیے اگرچہ سرمایہ میسر تھا تاہم چھوٹی صنعتوں کے لیے سرمائے تک رسائی کو آسان نہیں بنایا جا سکا، دوسری جانب چھوٹی صنعتوں کیلیے قرضوں پر شرح سود بھی زائد رہی ، افراط زر کی شرح میں اضافے اور بجلی گیس کا بحران بھی قابو سے باہر رہا۔انہوں نے کہا کہ حکومت سستی چینی مصنوعات کی یلغار کے روکنے میں بھی بری طرح ناکام رہی جس سے چھوٹی اور درمیانے درجے کی صنعتیں براہ راست متاثرہوئیں، غیرملکی مصنوعات کی درآمدات کو محدود کرنے کے بجائے خام مال کی امپورٹ پر ریگولیٹری ڈیوٹی عائد کردی گئی جس نے چھوٹی صنعتوں کے مسائل میں مزید اضافہ کر دیا، چھوٹی صنعتوں کیلیے تجارت اور برآمدات کے قومی پلیٹ فارمز تک رسائی بدستور بند رہی، ادارہ فروغ برآمدات کی تمام تر توجہ بڑی صنعتوں کو سہولتوں کی فراہمی پر مرکوز رہی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…