جمعہ‬‮ ، 18 ستمبر‬‮ 2026 

معاملات طے پا گئے۔۔ایبٹ آباد کمپائونڈ میں اسامہ بن لادن کی موجودگی کی اطلاع دینےوالے امریکی ایجنٹ ڈاکٹر شکیل آفریدی سے متعلق دھماکہ خیز خبر،حکومت پاکستان کب رہا کر رہی ہے ؟تصدیق کر دی گئی

datetime 28  اپریل‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)اسامہ بن لادن کے خلاف امریکی آپریشنز میں مدد کرنے والے سی آئی اے کے پاکستانی ایجنٹ ڈاکٹر شکیل آفریدی کو پشاور جیل سے راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں منتقل کر دیا گیا، اگلے ماہ رہا کر دیا جائے گا، وکیل نے تصدیق کر دی ۔ تفصیلات کے مطابق اسامہ بن لادن کے خلاف امریکی آپریشنز میں مدد کرنے والے سی آئی اے کے پاکستانی ایجنٹ ڈاکٹر شکیل آفریدی

کو پشاور جیل سے راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں منتقل کر دیا گیاہے اور ان کے اگلے ماہ رہائی کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ خیال رہے کہ شکیل آفریدینے اسامہ بن لادن کی تلاش میں امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے کو مدد فراہم کی تھی۔مئی 2012 میں شکیل آفریدی کو ایک پاکستانی عدالت نے غداری کے مقدمے میں 33 برس قید کی سزا سنائی تھی۔ بعد ازاں شکیل آفریدی پر عسکریت پسندوں سے تعلق رکھنے کا الزام بھی عائد کیا گیا تھا۔پاکستانی اداروں کی رپورٹ کے مطابق شکیل آفریدی نے اسامہ بن لادن کا ڈی این اے حاصل کرنے کے لیے ایبٹ آباد میں پولیو کے قطرے پلانے کی ایک جعلی مہم شروع کی تھی۔ جس کے بعد 2 مئی 2011 کو امریکی اسپیشل فورسز نے ایک خفیہ آپریشن کرتے ہوئے ایبٹ آباد کے ایک مضافاتی علاقے میں اسامہ بن لادن کو ہلاک کر دیا تھا۔ڈاکٹر شکیل آفریدی کو 2012 میں پشاور سے گرفتار کیا گیا تھا۔ڈاکٹر شکیل آفریدی کے وکیل قمر ندیم نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کی معلومات کے مطابق آج انہیں سینٹرل جیل پشاور سے راولپنڈی کی اڈیالہ جیل منتقل کردیا گیا ہے۔شکیل آفریدی کی رہائی کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں وکیل نے کہا کہ 22 مئی کو ان کی قید کو سات سال پورے ہوجائیں گے۔انہوں نے کہا آفریدی کو پہلے 33 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی جو بعد میں دس سال کم ہونے کے بعد 23 سال رہ گئی ہے۔ اگر اس کے

ساتھ معافیاں ملا لی جائیں تو سزا کا دورانیہ 7 سال ہی بنتا ہے۔ایڈوکیٹ قمر ندیم نے کہا کہ وہ پُرامید ہے کہ آفریدی کو اگلے ماہ تک رہا کر دیا جائے گا۔دوسری جانب پشاور جیل کی انتظامیہ نے ڈاکٹر شکیل کی اڈیالہ منتقلی کے حوالے سے گردش کرنے والی کسی بھی قسم کی خبر کی کوئی تصدیق نہیں کی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…