پیر‬‮ ، 23 فروری‬‮ 2026 

بھارتی فوج مقبوضہ کشمیر میں فوسل ایندھن اور ہتھیار استعمال کر رہی ہے ، جس سے ماحول تباہ ہو رہا ہے، حیرت انگیز انکشافات

datetime 26  اپریل‬‮  2018 |

اسلام آباد(آن لائن) وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی سینیٹر مشاہد اللہ خان سے آل پارٹیز حریت کونسل کے ایک وفد نے وزارت موسمیاتی تبدیلی میں ملاقات کی جس کے دوران وفاقی وزیر سینیٹر مشاہد اللہ خان نے کہا کہ کشمیر کاز کا موسمیاتی تبدیلی سے براہ راست تعلق ہے ۔ بھارت کی 7لاکھ فوج کی موجودگی کے علاقہ کے ماحول پرمنفی اثرات ہوئے ہیں وہ بھارتی فوج فوسل ایندھن اور ہتھیار استعمال کر رہی ہے جس سے ماحول تباہ ہو رہا ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ میں بچپن سے ہی کشمیر کا مسئلہ سنتا رہاہوں

جبکہ مظفر آباد میں کشمیر کے مسئلہ پر اجلاس بھی میری تجویز پر منعقد ہوا تھا ۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف کی حکومت کشمیر کا ز کو دوبارہ حکومت کے اعلی ایجنڈا کے طور پر لائی ۔انہوں نے کہاکہ برہان وانی کی قربانی کے بعد اس مسئلہ نے دنیا بھر کی توجہ حاصل کی ۔ موجودہ حکومت نے اس مسئلہ کو بین الاقوامی فورمز اور سفارتی برادریوں میں اجاگر کیا ۔ بھارت جمہوری ملک ہے تاہم اس کے باوجود وہ کشمیریوں کے حق خودارایت کے لئے استصواب رائے کے انعقاد سے انکاری ہے ۔ انہوں نے وفد کوبتایا کہ آئیڈیالوجی نے فزیکل جنگ ہمیشہ جیتی ہے ہماری حکومت ، وزارت اور پاکستانی عوام کشمیر کاز کی مکمل حمایت کرتے ہیں ۔ وزارت موسمیاتی تبدیلی کی پارلیمانی سیکرٹری رومینہ خورشید عالم نے کہا کہ ہم نے کشمیریوں کے ساتھ اظہار یکجہتی اور مسئلہ کشمیر کو اجاگر کرنے کے لئے بین الاقوامی کانفرنس منعقد کی آزاد جموں اور کشمیر آل پارٹیز حریت کانفرنس کے کنوینز غلام محمد صافی نے کہا کہ مسئلہ کشمیر انسانی حقوق کا مسئلہ ہے اور بھارتی فورسز کی بربریت اور بہیمانہ کارروائیوں کے گلیشئیرز پر بھی منفی اثرات پڑ رہے ہیں کیونکہ اس علاقہ سے مسلمان ہجرت کر رہے ہیں۔انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ آئندہ عام انتخابات کے لئے منشور میں مسئلہ کشمیر کو سر فہرست رکھا جائے جس پر وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی سینیٹر مشاہد اللہ خان نے

اس تجویز سے اتفاق کیا اور کہا کہ وہ اس مسئلہ کو تمام سیاسی جماعتوں کے منشور میں سر فہرست رکھوانے کی تجویز کو آگے بڑھائیں گے ملاقات میں موسمیاتی تبدیلی کی پارلیمانی سیکرٹری رومینہ خورشید عالم ، پنجاب ہائر ایجوکیشن کمیشن کی سیکرٹری ایم اپی اے مہوش عظمت حیات ، سید اعجاز صافی ، سید فیض نقشبندی ، محمود احمد صغیر اور آل پاکستان حریت کونسل کے دیگر نمائندگان بھی موجود تھے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



چوہے کھانا بند کریں


ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…