جمعہ‬‮ ، 18 ستمبر‬‮ 2026 

معلوم تھا نیب مارشل لاء دور کا قانون ہے ،غلطی ہوئی اس کو ختم نہیں کرسکے، نواز شریف

datetime 24  اپریل‬‮  2018 |

اسلام آباد (آئی این پی) سابق وزیراعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ معلوم تھا نیب مارشل لاء دور کا قانون ہے غلطی ہوئی اس کو ختم نہیں کرسکے‘ میرے خلاف اربوں‘ کھربوں کی کرپشن کے الزامات لگائے گئے ‘ اﷲ ہمیں تمام الزامات سے سرخرو کررہا ہے‘ اکیسویں صدی میں کوئی سمجھتا ہے کہ وہ کسی کی زبان بند کرسکتا ہے تو اس کی خام خیالی ہے‘ اگر آپ کچھ کہیں گے یا کریں گے تو بائیس کروڑ عوام اس کا جواب دے گی۔

آپ براہ مہربانی اپنا کام کریں دوسروں کے کام میں بے جا مداخلت نہ کریں‘ آپ جا کر یہ بھی دیکھ لیں کہ عدالتوں میں غریب عوام کو کتنا انصاف مل رہا ہے۔ منگل کو نواز شریف نے احتساب عدالت پیشی کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سب اس بات پر متفق ہیں کہ عدلیہ میں اصلاحات ہونی چاہئیں۔ عدلیہ کس طرح ہمارا خیال رکھ رہی ہے آٹھ ماہ سے سب کے سامنے ہے۔ معلوم تھا کہ نیب مارشل لاء کا قانون ہے لیکن علطی ہوئی اسے ختم نہیں کرسکے لندن فلیٹس ہم نے قومی خزانے سے نہیں خریدے ہم نے کرپشن سے مال بنا کر اثاثے بنائے تو ثابت کریں۔ اربوں کھربوں کا الزام تو لگایا لیکن کوئی بھی چیز ثابت نہیں کرسکے جس طرح میرے خلاف مقدمات بنائے گئے ہیں تاریخ میں اس کی مثال نہیں ملتی۔ جب کرپشن کا معاملہ دور دور تک نہیں ہے تو یہ سلسلہ ختم ہونا چاہئے۔ اﷲ ہمیں تمام الزامات سے سرخرو کرنے جارہا ہے ووٹ کو عزت دو کا نعرہ گاؤں گاؤں پھیل چکا ہے اب یہ معاملہ نہیں رکے گا یہ اکیسویں صدی ہے اور اس میں کسی کی زبان کو بند نہیں کیا جاسکتا۔ اگر کوئی سمجھتا ہے کہ وہ زبان بندی کرسکتا ہے تو یہ ایسے ہی ہے کہ کبوتر اپنی آنکھوں کو بند کرلے اور سوچے کی کوئی اس کو نہیں دیکھ رہا۔ معاملات ایسے نہیں چلیں گے یہ قوم حساب مانگ رہی ہے اور آگے بھی مانگے گی آپ جو مرضی کردیں اور کہہ دیں اور توقع کریں کہ آگے سے جواب نہیں آئے گا تو جواب تو آئے گا۔

جواب صرف نواز شریف کی طرف سے نہیں بلکہ بائیس کروڑ عوام بھی اس کا جواب دیں گے۔ آپ مہربانی کرکے صرف اپنے کام سے کام رکھیں اور جو آپ کا کام نہیں ہے تو اس میں مداخلت نہ کریں آپ یہ دیکھیں کہ عدالتوں میں لوگ کیسے ذلیل ہورہے ہیں کیا ان کی دادرسی ہورہی ہے وہ کام آپ نے چھوڑ رکھا ہے۔ آپ کے پاس کوئی شکایت آتی ہے تو آپ نوٹس لیں لیکن آپ خود کیسے جاسکتے ہیں وہاں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…