جمعہ‬‮ ، 18 ستمبر‬‮ 2026 

” اس وقت تک یہیں کھڑے رہوگے جب تک۔۔۔“چیف جسٹس نے عدالت میں خواجہ سعد رفیق کو بیٹھنے سے بھی منع کردیا، کھری کھری سنادیں

datetime 14  اپریل‬‮  2018 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک ) چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق کی کلاس لے لی، دونوں کے درمیان جملوں کا تبادلہ۔ تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں بنچ نے سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں ریلوے میں خسارے سے متعلق ازخود نوٹس کی سماعت کی۔ وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق بھی

عدالت میں پیش ہوئے۔ سماعت کے دوران چیف جسٹس نے وفاقی وزیر ریلوے کو روسٹرم پر بلاتے ہوئے کہا کہ سعد رفیق صاحب روسٹرم پر آئیں اور لوہے کے چنے بھی ساتھ لے کر آئیں۔ چیف جسٹس کا اشارہ خواجہ سعد رفیق کی ایک تقریر کی جانب تھا جس میں انہوں نے لوہے کے چنے چبوانے کا حوالہ دیا تھا۔ اس پر سعد رفیق نے کہا کہ یہ بیان آپ کے لیے نہیں تھا ،سیاسی مخالفین کے لیے تھا ،آپ نے مجھے یاد کیا تھا۔خواجہ سعد رفیق کی اس بات پر چیف جسٹس نے کہا کہ ہم نے یاد نہیں سمن کیا تھا ، ابھی آپ کی ساری تقریروں اور خسارے کا ریکارڈ منگواتے ہیں ،بتائیں ابھی ریلوے میں کتنا خسارہ ہوا؟۔جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ وہ وقت چلا گیا جب عدالتوں کا احترام نہیں کیا جاتا تھا ۔اس موقع پر خواجہ سعد رفیق نے بولنے کی اجازت طلب کرتے ہوئے کہا کہ مجھے بولنے کی اجازت دے دی جائے اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ عدالت کے سامنے اتنا جارحانہ انداز نہ اپنائیں،سعد رفیق نے کہا کہ جارحانہ انداز نہیں اپنا رہا ،موقف دینے کی کوشش کر رہا ہوں،آپ ہمارے بھی چیف جسٹس ہیں ۔چیف جسٹس نے کہا کہ جب تک عدالت نہیں کہے گی ،آپ چپ رہیں گے،اس پر خواجہ سعد رفیق نے کہا کیا پھر میں بیٹھ جاؤں،اگر مجھے سننا نہیں ہے تو پھر میں چلاجاتا ہوں ؟اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ جب تک ہم کہیں گے آپ یہیں کھڑے رہیں گے ۔خواجہ سعد رفیق کے چلے جانے کاکہنے پر چیف جسٹس نے کہا کہ آپ چلے جائیں ہم توہین عدالت کی کارروائی کریں گے ،آپ کی نیت جانتے ہیں ہمیں پتہ ہے آپ کس نیت سے آئے ہیں ۔



کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…