جمعہ‬‮ ، 18 ستمبر‬‮ 2026 

چوری کے شبے میں نوجوان گرفتار، تشدد سے حالت غیر، اہلخانہ کے احتجاج پر تھانیدار نے ملزم کی بہن کیساتھ ایسا شرمناک سلوک کیا کہ۔۔شہبازشریف بھی شرم سے پانی پانی ہو جائینگے

datetime 8  اپریل‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)پنجاب پولیس میں تبدیلی کے دعووں کے باوجود صورتحال جوں کی توں برقرار،ڈیرہ غازی خان کی  پولیس نے وزیراعلیٰ پنجاب کے گڈ گورننس کے دعوﺅں کی دھجیاں اڑادیں ۔ بھائی کی رہائی  کے لئے احتجاج کرنے والی خاتون کے کپڑے پھاڑ کر تھانہ کے اندر برہنہ کردیا، متاثرہ فریق کی طرف سے معاملہ میڈیا پرلانے پر ایس ایچ او یتڑہ طارق ستار برا مان گیا اور تھانیدار کو پولیس جوانوں کے ہمراہ تنویر مائی کے گھر بھجوا کر توڑ پھوڑ کروائی ۔

ساتھ ہی تنویر مائی کی والدہ تاج بی بی کو بندوق کے بٹ مار کر بازو زخمی کردیا۔ پولیس نے مقدمہ درج کرنے اور ڈاکٹ دینے سے بھی انکارکردیا، عدالت کے حکم پر ڈاکٹ مل گیا مگر میڈیکل رپورٹ رکوانے کے لئے تاخیری حربے جاری، ہسپتال انتظامیہ پر پولیس کی طرف سے دباﺅ، 5 روز سے تاج بی بی ہسپتال میں زیر علاج ہیں۔روزنامہ خبریں کے مطابق ضلع ڈیرہ غازی خان کی پولیس تھانہ ریتڑہ نے علاقہ کے رہائشی ایک بازو سے معذور طاہر کو شک کی بناءپر چوری کے الزام میں گرفتار کیا اور تین روز تک تھانہ ریتڑہ میں رکھ کر اس پر تشدد کرتے رہے لیکن تھانہ میں گرفتاری ظاہر نہ کی۔ تشدد سے طاہر کی طبیعت زیادہ بگڑی تو کمرے میں بند کرکے رات کو پولیس مقابلہ میں ”پار“ کرنے کا مبینہ منصوبہ بنایا گیا جس کی اطلاع طاہر کے گھر والوں کو ہوئی تو ان کی بہن تنویر مائی اور والدہ تاج بی بی نے رشتہ داروں سے مل کر احتجاج کیا۔اس دوران پولیس نے معاملے کی حساسیت کو دیکھ کر پرائیویٹ ڈاکٹر سے مشورہ کرکے علاج شروع کردیا۔ کئی گھنٹے گزرنے پر گرفتار طاہر کی طبیعت کچھ سنبھلی۔ پولیس نے احتجاج کرنے والی خواتین تنویر مائی اور تاج بی بی کو تھانہ بلایا اور طاہر کے حوالے کرنے کا یقین دلایا۔ طاہر کی بہن اپنی والدہ کے ہمراہ تھانہ پہنچی تو تھانیدار خلیل نے

سفید کاغذ پر انگوٹھے لگوا کر بیہوشی کی حالت میں طاہرکو ان کے حوالے کیا۔ انہوں نے طاہر کی حالت دیکھ کر ناصرف شور شرابا کرنا شروع کردیا بلکہ تھانہ کے اندر انہوں نے رونا پیٹنا بھی جاری رکھا تو تھانیدارخلیل آپے سے باہر ہوگیا اور اس نے طاہر کی بہن پر تشدد کرتے ہوئے کپڑے پھاڑ دئیے اوربرہنہ کردیا۔تنویر مائی کو برہنہ کرنے کی تصویر بھی سامنے آگئی ہے ،متاثرین نے وزیر اعلیٰ پنجاب شہبازشریف، چیف جسٹس ثاقب نثار سے انصاف فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔



کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…