جمعہ‬‮ ، 21 اگست‬‮ 2026 

وزیراعظم نے ٹیکس ایمنسٹی سکیم کا اعلان کردیا، اب کتنے لاکھ ماہانہ کمانے والے ٹیکس سے مستثنیٰ ہوں گے؟ تفصیلات منظر عام پر آ گئیں

datetime 5  اپریل‬‮  2018 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے ٹیکس نادہندگان کے لیے ایمنسٹی سکیم کا اعلان کر دیا، وزیراعظم نے کہا کہ سیاستدان اس سکیم سے فائدہ حاصل نہیں کر سکیں گے۔ وزیراعظم نے اقتصادی اصلاحات پیکج پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ٹیکس ادا کرنا ہر شہری کا فرض ہے اور اسے ادا نہ کرنا جرم ہے،انہوں نے کہا کہ 7 لاکھ ٹیکس گزاروں نے ملک کا معاشی بوجھ اٹھا رکھا ہے، اب ہمیں ٹیکس اصلاحات لانا پڑیں گی،

یہ پیکج انکم ٹیکس کے دائرہ کار میں اضافہ کرے گا۔ وزیراعظم نے بتایا کہ انکم ٹیکس حصول کے لیے ٹیکنالوجی کا استعمال کیا جائے گا، انہوں نے کہا کہ اب پاکستانی شہریوں کا شناختی کارڈ نمبر ہی ٹیکس نمبر ہو گا۔ وزیراعظم نے پریس کانفرنس میں کہا کہ حکومت نے انکم ٹیکس کی شرح کم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اب ایک لاکھ روپیہ ماہانہ کمانے والے ٹیکس سے مستثنیٰ ہوں گے۔ 24 سے 48 لاکھ روپے سالانہ پر 10 فیصد ٹیکس ادا کرنا پڑے گا۔ وزیر اعظم نے ٹیکس ادا نہ کرنے والوں کے لیے ایمنسٹی سکیم لانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ جو بھی اس سکیم کا حصہ بنے گا وہ ٹیکس دہندہ ہو گا اور اسے صرف 5 فیصد ٹیکس ادا کرنا پڑے گا جبکہ ملک سے باہر غیر ملکی کرنسی اکاؤنٹ رکھنے پر بھی 5 فیصد ٹیکس ادا کرنا پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکس ادا نہ کرنے والوں کے خلاف کارروائی ہو سکتی ہے، جو شہری ٹیکس ادا نہیں کریں گے ان کو نوٹس جاری کیے جائیں گے۔ وزیراعظم نے پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ اس سکیم سے سیاستدان اور ان کے خاندان کے افراد فائدہ نہیں اٹھا سکیں گے۔ یہ ایمنسٹی سکیم ہر پاکستانی کے لیے ہے جو 30 جون 2018ء تک جاری رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ اڑھائی ماہ کے عرصے میں اس ایمنسٹی سکیم سے فائدہ حاصل کیا جا سکتا ہے، اس سکیم کا مقصد لوگوں کو ٹیکس نیٹ ورک میں لانا ہے۔ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ہمارے پاس قانون بنانے کا مینڈیٹ ہے،دنیا میں آف شور کمپنی رکھنا جرم نہیں، اگر آف شور کمپنی میں اثاثے رکھے ہیں تو یہ ڈیکلیئر کرنے کا موقع ہے، جو اس سکیم سے فائدہ نہیں اٹھائیں گے وہ قانون کی گرفت میں آ جائیں گے۔ اس کے علاوہ جو ٹیکس ادا نہیں کرے گا، اس کی سزا کا فیصلہ پارلیمنٹ کر سکتی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…