پیر‬‮ ، 02 فروری‬‮ 2026 

ہاں! میں چیف جسٹس کے پاس ’’فریادی‘‘ بن کر گیا تھا اور ان سے کیا بات کی؟ شاہد خاقان عباسی کے صبر کا پیمانہ لبریز، سب کچھ سامنے لے آئے

datetime 30  مارچ‬‮  2018 |

سرگودھا (مانیٹرنگ ڈیسک) وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے سرگودھا میں گیس فراہمی کے منصوبوں کا افتتاح کیا، اس موقع پر وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے اپنے خطاب میں کہا کہ میں ملک کا وزیرِ اعظم ہوں جبکہ چیف جسٹس ایک ادارے کے سربراہ ہیں، اگر ہم ایک دوسرے سے بات نہیں کریں گے تو ملک کیسے چلے گا؟ انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ پہلے کہا جاتا تھا کہ اداروں میں بات نہیں ہے،

اب چیف جسٹس اور میرے درمیان ملاقات ہوئی تو کہتے ہیں ملاقات تو ٹھیک ہے لیکن ٹائمنگ ٹھیک نہیں ہے، انہوں نے کہا کہ ہمارے مخالفین کو دوسری تکلیف ہے کہ وزیرِاعظم نے چیف جسٹس سے ملاقات کی۔ وزیراعظم نے کہا کہ ملاقات میں نے کی ہے تکلیف مخالفین کو کیوں ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسی سیاست کا خاتمہ کریں گے، چاہے عمران خان اور آصف علی زرداری کو اس کی تکلیف ہو۔ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے اپنی تقریر میں بتایا کہ میں نے چیف جسٹس ثاقب نثار سے رابطہ کرکے ملاقات کرنے کا کہا جس کے بعد ہماری دو گھنٹے ملاقات ہوئی، وزیراعظم نے کہاکہ امید ہے چیف جسٹس نے ہماری بات سنی ہو گی، میں نے بھی ان کی باتیں سنی ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ کہا جا رہا ہے کہ فریادی بن کر گیا تھا، ہاں میں بالکل ملک کا فریادی بن کر گیا تھا، اگر ایک دوسرے سے بات نہیں کریں گے تو ملک کیسے چلے گا؟ انہوں نے کہا کہ ہم نے ملاقات میں کوئی ذاتی بات نہیں کی۔ تقریر میں انہوں نے مزید کہا کہ میاں نواز شریف کے خلاف الزامات میں کوئی حقیقت نہیں ہے، ایسے الزام لگائے جاتے ہیں جن کا نہ سر ہوتا ہے اور نہ پیر، انہوں نے کہا کہ ہمیں نیب کی عدالتوں سے انصاف کی توقع نہیں ہے۔ اس موقع پر وزیراعظم نے کہا کہ اقامہ کا کوئی الزام ہے نہ حقیقت، اقامہ کو بنیاد بنا کر وزیر اعظم کو فارغ کر دیا گیا۔

جب سپریم کورٹ کی جانب سے حکم آیا تو نواز شریف نے سیاہی خشک ہونے سے پہلے عہدہ چھوڑ دیا، وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ اب وقت ثابت کر دے گا کہ تاریخ سپریم کورٹ کے فیصلے کو کیسے دیکھے گی۔ انہوں نے سیاسی مخالفین کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ مسلم لیگ (ن) نے سینیٹ الیکشن میں پیسہ خرچ نہیں کیا، پیسے دے کر ایوانوں میں پہنچنے والے عوام کی خدمت نہیں کرتے۔ وزیراعظم نے مزید کہا کہ کہا جاتا ہے کہ چیئرمین سینیٹ کے بارے میں بیان دیا، جو پیسے دے کر چیئرمین سینیٹ بنا وہ پاکستان کی کیا خدمت کرے گا، انہوں نے کہا کہ ہمیں ایسی سیاست قبول نہیں ہے، اس کے خلاف بات کرنا جہاد سمجھتا ہوں، انہوں نے کہا کہ جو سینیٹر ایوان میں بیٹھے ہیں ان کا ضمیر بھی مطمئن نہیں ہو گا۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



اصفہان میں دو دن


کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…