جمعرات‬‮ ، 25 جون‬‮ 2026 

خواتین کے حقوق کا تحفظ ترقی پسند معا شرے کی تشکیل کے لیے ناگزیر ہے ،سپیکر قومی اسمبلی

datetime 7  مارچ‬‮  2018 |

اسلام آباد(این این آئی)سپیکرقومی اسمبلی سردار ایازصادق نے کہا ہے کہ معاشر ے کی ترقی اور خوشحالی کے لیے خواتین کا کردارانتہائی اہمیت کا حامل ہے مگر بد قسمتی سے دنیا بھرمیں خواتین کے ساتھ امتیازی سلوک روا رکھاجاتا ہے اور انہیں جبر و تشددکانشانہ بنا کر انہیں ایک پسماندہ اور کسمپرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔انہوں نے عالمی برادری پر خواتین کے حقوق کے تحفظ کے لیے مشترکہ کوششیں کرنے اور قانون سا زی پر زور دیا۔

انہوں نے ان خیالات کا اظہار خواتین کے عالمی دن کے موقع پر اپنے پیغام میں کیا جو ہرسال 8مارچ کو دنیا بھرمیں منایا جاتاہے۔ انہوں نے کہا کہ اسلام خواتین کو مساوی حقوق اور احترام دیتا ہے اور صنفی امتیاز کی سختی سے ممانعت کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے معاشرے میں خواتین کو تعلیم ،صحت عامہ اور روزگار کے شعبوں میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کو ان کے جائز حقوق سے انکار اقتصادی ترقی کی راہ میں رکاوٹ کی بڑی وجہ ہے۔ انہوں نے خواتین کے حقوق کے بارے میں منفی سوچ اور رویوں کو بدلنے اور انہیں قومی دھارے میں لانے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ پارلیمنٹ میں خواتین کی ایک بڑی تعداد موجود ہے جو قانون سازی کے عمل میں انتہائی فعال کردار ادا کر رہی ہے اور انہیں قومی ترقی میں موثر کردار ادا کرنے کا پورا موقع فراہم کیا جاتاہے۔ سپیکر نے کہا کہ پاکستان کا آئین خواتین کو جانی اور مالی تحفظ، کام ، کاروبار تعلیم اور آزادی کے ساتھ پیشے کے انتخاب، سیاسی و سماجی سرگرمیوں میں حصہ لینے کی ضمانت دیتا ہے۔سپیکر نے کہا کہ عوامی امور میں خواتین کی نمائندگی جمہوریت کو فعال اور مستحکم بنانے اور ظلم کے خلاف جدوجہد کو کامیاب بنانے کے لیے ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کو معاشی طور پر بااختیار بنانے کے لیے اقتصادی شعبوں میں خواتین کو آگے لانے اور ان کی حوصلہ افزائی کی ضرورت ہے۔

انہو ں نے خواتین کے حقوق کے تحفظ اور انہیں اقتصادی اور سیاسی طور پر بااختیار بنانے کے لیے قومی اسمبلی میں قائم وومن پارلیمنٹری کاکس کے کردار کو سراہا ۔ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی مرتضیٰ جاوید عباسی نے اس موقع پر کہا کہ موجودہ حکومت خواتین کے حقوق کے تحفظ اور انہیں محفوظ ماحول فراہم کرنے کے لیے پر عزم ہے ۔انہوں نے کہا کہ تمام سٹیک ہولڈرز بشمول قانون ساز ادارے ،عدلیہ ،ایگز یکٹو، سول سوسائٹی اور میڈیا کی مدد سے ہم ملک خواتین کے معیار زندگی کو بہتر بنا کر مثبت تبدیلی لا سکتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ باہمی شراکت داری کے ذریعے خواتین کو معاشرے میں ان کا جائز مقام دیا جا سکتا ہے اور وہ ملک کی معیشت کی تر قی کے لیے اہم کردار ادا کر سکتی ہیں ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



اواتار مائونٹین


اواتار فلم 2009 ء میں آئی‘ پوری دنیا میں دیکھی…

فورنگ میں ایک رات

ہماری لینڈ لیڈی کے والدین غریب تھے‘ وہ ٹائون…

محمد بوٹا انجم

محمد بوٹا میاں چنوں کے گائوں چک 15 میں پیدا ہوا‘…

فلم میں بھی ہارنے سے انکار

یہ تبلیسی شہر تھا‘ اکتوبر کی 8 تاریخ تھی اور سن…

Pale Blue Dot

کارل ایڈورڈ سیگن (Carl Edward Sagan) خلانورد اور پلانٹری…

نصیب کی مکھی

ٹومی فلیٹ ووڈ (Tommy Fleetwood) دنیا کا مشہور گالفر ہے‘…

8 بجے تک

میرا جم میرے گھر سے پانچ منٹ کی دوری پر ہے‘ میں…

ریو سیکریٹو

دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…