بدھ‬‮ ، 24 جون‬‮ 2026 

آٹو سیکٹر کی جانب سے حکومتی پالیسیوں پر تنقید

datetime 22  فروری‬‮  2018 |

کراچی(سی پی پی) پاپام کے سابق چیئرمین عامر اللہ والا نے کہا ہے کہ آٹو صنعت کی پیداواری اشیا کی قیمتوں میں اضافے سے صنعت پر دبا میں اضافہ ہوا ہے جب کہ اسٹیل پر ریگولیٹری ڈیوٹی سے پیداواری لاگت میں بھی اضافہ ہوگیا ہے۔پاپام کے سابق چیئرمین عامر اللہ والا نے کہا ہے کہ بنیادی ریگولیٹری قاعدے کے تحت آٹو صنعت میں استعمال ہونے والا اسٹیل ملک میں تیار نہیں ہوتا اس لیے اس پر ڈیوٹی نہیں لگانی چاہیے تھی۔

تاہم اس پر ڈیوٹی عائد کیے جانے سے پیداواری لاگت میں اضافہ ہوا ہے جبکہ روپے کی قدر میں کمی سے بھی صنعت پر اثرات پڑے ہیں کیونکہ گزشتہ ایک برس میں تقریبا 7 روپے کے قریب ڈالر مہنگا ہوگیا ہے، صرف شفاف اور پیش بندی کے لحاظ سے مستقل پالیسیوں سے ملک میں نئے سرمایہ کاروں کو راغب کیا جا سکتا ہے اور مقامی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کی جاسکتی ہے۔عامر اللہ والا نے بتایا کہ نے کہا کہ پرانی گاڑیوں کی درآمد کے حوالے سے پالیسی کی واپسی کے فیصلے سے بھی مقامی انڈسٹری کو نقصان پہنچا ہے اور نئے سرمایہ کاروں کو غلط پیغام جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ ایک پرانی درآمد ہونے والی کار سے آٹو صنعت وینڈر کو 3 لاکھ روپے کا نقصان پہنچتا ہے جبکہ گزشتہ برس 80 ہزار گاڑیاں درآمد کی گئی تھیں جس سے صنعت کو 24 ارب روپے کا نقصان پہنچا، صنعت سے 25 لاکھ بلواسطہ اور بلاواسطہ افراد وابستہ ہیں جبکہ صنعت کے فروغ پانے کے وسیع امکانات اب بھی موجود ہیں تاہم اس کے لیے شفاف اور پیش بندی کے لیے معاون پالیسی ضروری ہے ۔پاپام کے سابق چیئرمین نے کہا کہ آٹو صنعت کو حکومت کی مدد کی ضرورت ہے تاکہ وہ اپنے وسائل کے موثر استعمال اور پیداواری سطح کو دوبارہ حاصل کر سکے۔ انہوں نے کہا کہ آٹو صنعت کسی بھی ملک کے لیے معاشی ترقی کا باعث ہوتی ہے تاہم اس کے لیے ضروری ہے کہ صنعت کے لیے مستقل اور شفاف پالیسیاں یقینی بنائی جائیں تاکہ وہ ان کو سامنے رکھتے ہوئے صنعت کو فروغ دے سکیں۔



کالم



فورنگ میں ایک رات


ہماری لینڈ لیڈی کے والدین غریب تھے‘ وہ ٹائون…

محمد بوٹا انجم

محمد بوٹا میاں چنوں کے گائوں چک 15 میں پیدا ہوا‘…

فلم میں بھی ہارنے سے انکار

یہ تبلیسی شہر تھا‘ اکتوبر کی 8 تاریخ تھی اور سن…

Pale Blue Dot

کارل ایڈورڈ سیگن (Carl Edward Sagan) خلانورد اور پلانٹری…

نصیب کی مکھی

ٹومی فلیٹ ووڈ (Tommy Fleetwood) دنیا کا مشہور گالفر ہے‘…

8 بجے تک

میرا جم میرے گھر سے پانچ منٹ کی دوری پر ہے‘ میں…

ریو سیکریٹو

دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…