اتوار‬‮ ، 06 ستمبر‬‮ 2026 

آٹو سیکٹر کی جانب سے حکومتی پالیسیوں پر تنقید

datetime 22  فروری‬‮  2018 |

کراچی(سی پی پی) پاپام کے سابق چیئرمین عامر اللہ والا نے کہا ہے کہ آٹو صنعت کی پیداواری اشیا کی قیمتوں میں اضافے سے صنعت پر دبا میں اضافہ ہوا ہے جب کہ اسٹیل پر ریگولیٹری ڈیوٹی سے پیداواری لاگت میں بھی اضافہ ہوگیا ہے۔پاپام کے سابق چیئرمین عامر اللہ والا نے کہا ہے کہ بنیادی ریگولیٹری قاعدے کے تحت آٹو صنعت میں استعمال ہونے والا اسٹیل ملک میں تیار نہیں ہوتا اس لیے اس پر ڈیوٹی نہیں لگانی چاہیے تھی۔

تاہم اس پر ڈیوٹی عائد کیے جانے سے پیداواری لاگت میں اضافہ ہوا ہے جبکہ روپے کی قدر میں کمی سے بھی صنعت پر اثرات پڑے ہیں کیونکہ گزشتہ ایک برس میں تقریبا 7 روپے کے قریب ڈالر مہنگا ہوگیا ہے، صرف شفاف اور پیش بندی کے لحاظ سے مستقل پالیسیوں سے ملک میں نئے سرمایہ کاروں کو راغب کیا جا سکتا ہے اور مقامی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کی جاسکتی ہے۔عامر اللہ والا نے بتایا کہ نے کہا کہ پرانی گاڑیوں کی درآمد کے حوالے سے پالیسی کی واپسی کے فیصلے سے بھی مقامی انڈسٹری کو نقصان پہنچا ہے اور نئے سرمایہ کاروں کو غلط پیغام جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ ایک پرانی درآمد ہونے والی کار سے آٹو صنعت وینڈر کو 3 لاکھ روپے کا نقصان پہنچتا ہے جبکہ گزشتہ برس 80 ہزار گاڑیاں درآمد کی گئی تھیں جس سے صنعت کو 24 ارب روپے کا نقصان پہنچا، صنعت سے 25 لاکھ بلواسطہ اور بلاواسطہ افراد وابستہ ہیں جبکہ صنعت کے فروغ پانے کے وسیع امکانات اب بھی موجود ہیں تاہم اس کے لیے شفاف اور پیش بندی کے لیے معاون پالیسی ضروری ہے ۔پاپام کے سابق چیئرمین نے کہا کہ آٹو صنعت کو حکومت کی مدد کی ضرورت ہے تاکہ وہ اپنے وسائل کے موثر استعمال اور پیداواری سطح کو دوبارہ حاصل کر سکے۔ انہوں نے کہا کہ آٹو صنعت کسی بھی ملک کے لیے معاشی ترقی کا باعث ہوتی ہے تاہم اس کے لیے ضروری ہے کہ صنعت کے لیے مستقل اور شفاف پالیسیاں یقینی بنائی جائیں تاکہ وہ ان کو سامنے رکھتے ہوئے صنعت کو فروغ دے سکیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)


ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…