جمعرات‬‮ ، 30 اپریل‬‮ 2026 

نواز شریف ٗمریم نواز اور کیپٹن صفدر کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کی تیاریاں،پیپلزپارٹی نے بڑا سرپرائزدیدیا

datetime 14  فروری‬‮  2018 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سید خورشید احمد شاہ نے وزارت داخلہ سے مطالبہ کیا ہے کہ سابق وزیر اعظم نواز شریف ٗمریم نواز اور کیپٹن صفدر کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کیلئے نیب کے خط پر عملدرآمد کیا جائے ٗوزارت داخلہ نے نیب کے خط پر عملدرآمد نہ کیا تو شرجیل میمن کو آزاد کرنا پڑیگا ٗ قانون کے تحت سب کے ساتھ برابر سلوک کیا جانا چاہیے ٗمیثاق جمہوریت پر عملدرآمد میں نواز شریف بڑی رکاوٹ تھے ٗ

عوام کا راج اور جمہوریت چلنی چاہیے ٗادارے اپنا کام کریں ٗکوئی ادارہ دوسرے ادارے میں مداخلت نہ کرے ۔ منگل کو میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے خورشید شاہ نے کہا کہ وزارت داخلہ نے اگر نیب کے خط پر عملدرآمد نہ کیا تو شرجیل میمن کو آزاد کرنا پڑے گا اور نام ای سی ایل سے ہٹانا پڑے گا۔ خورشید شاہ نے کہا کہ قانون کے تحت سب کے ساتھ برابر سلوک کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ شریف خاندان کے خلاف ریفرنس ہے شرجیل میمن کے خلاف ریفرنس بھی نہیں۔ خورشید شاہ نے کہا کہ شرجیل میمن خود پیش ہوئے تھے شریف خاندان کے لوگوں کو پکڑا گیا اور چھوڑا گیا جو غیر قانونی تھا۔ خورشید شاہ نے کہا کہ میثاق جمہوریت پر عملدرآمد میں نواز شریف بڑی رکاوٹ تھے۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف نے میمو سکینڈل میں میثاق جمہوریت کا مذاق اڑایا۔ خورشید شاہ نے کہا کہ 2014 میں ن لیگ ہاٹ واٹر میں آئی تو پی پی ساتھ کھڑی ہوئی۔ قائد حزب اختلاف نے کہا کہ میثاق جمہوریت کے تحت آصف زرداری نواز شریف کے گھر گئے۔ خورشید شاہ نے کہا کہ میثاق جمہوریت کے تحت قانونی تبدیلیاں لانے میں نواز شریف اور انکے اپوزیشن لیڈر نے مخالفت کی۔ خورشید شاہ نے کہا کہ میثاق جمہوریت پر عمل ہوتا تو نواز شریف کو یہ دن نہ دیکھنا پڑتا۔ انہوں نے کہا کہ میثاق جمہوریت کے تحت عدلیہ دو حصوں میں تقسیم ہونا تھی ٗ ایک آئینی اور ایک موجودہ، اس پر عمل ہوتا تو بڑا مسئلہ حل ہو جاتا۔ خورشید شاہ نے کہا کہ ججز تقرری کے طریقہ سے متعلق 18 ویں ترمیم میں نواز شریف نے رکاوٹ ڈالی۔

انہوں نے کہا کہ نواز شریف کو آج انہی کہ بدولت یہ دیکھنا پڑ رہا ہے۔ خورشید شاہ نے کہا کہ نیب پر متفقہ قانون لانے کا کہا تو ن لیگ کے اپوزیشن لیڈر نے مخالفت کی۔ ن لیگ کے اپوزیشن لیڈر نے کیوں کیا ٗکس کے کہنے پر کیا ٗ انہیں آگے کیا نظر آ رہا تھا؟ سید خورشید شاہ نے کہا کہ جس قانون کے تحت نواز شریف پھنسے۔ ہم نے کوشش کی کہ پانامہ مسئلہ پارلیمنٹ میں حل ہو۔ خورشید شاہ نے کہا کہ ہم نے بہت کوشش کی پارلیمانی کمیٹی بنائی لیکن وہ باز نہ آئے۔ انہوں نے کہا کہ میاں صاحب نے سمجھا کہ معاملہ عدالت میں جانے سے لمبا چلے گا تو فائدہ ہو گا۔سید خورشید شاہ نے کہا کہ جو لیڈر اپنے فائدے کا سوچے تو وہ خود اس میں پھنس جاتا ہے ٗانہوں نے کہا کہ ملک میں خیر ہونی چاہیے ٗ امن ہو اور پارلیمنٹ چلے ٗ خورشید شاہ نے کہا کہ عوام کا راج اور جمہوریت چلنی چاہیے ٗادارے اپنا کام کریں ٗکوئی ادارہ دوسرے ادارے میں مداخلت نہ کرے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



آپریشن بنیان المرصوص


میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…

گریٹ گیم (آخری حصہ)

میں اس سوال کی طرف آئوں گا لیکن اس سے قبل ایک حقیقت…

گریٹ گیم(چوتھا حصہ)

لیویونگ زنگ اور اس کا بھائی لیویونگ ہو چین کی…

گریٹ گیم(تیسرا حصہ)

ہم بائبل پڑھیں‘ قرآن مجید اور احادیث کا مطالعہ…

گریٹ گیم(دوسرا حصہ)

حضرت آدم علیہ السلام اورحضرت حواء علیہ السلام…

گریٹ گیم

یہ گیم ہابیل اور قابیل کی لڑائی سے شروع ہوئی تھی‘…

ایران کی سب سے بڑی کام یابی

وہ آرٹسٹ تھی اور اس کا نام مرینا ابراموویک (Marina…

لفظ اضافی ہوتے ہیں

نیویارک کے اطالوی ریستوران میں نوجوان لڑکی نے…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(آخری حصہ)

ایران کا دوسرا کمال سیاحت ہے‘ میں 120 ملک گھوم…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(پہلا حصہ)

جون 2025ء تک ایران میں پاکستان کا تاثر اچھا نہیں…