منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

نواز شریف ٗمریم نواز اور کیپٹن صفدر کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کی تیاریاں،پیپلزپارٹی نے بڑا سرپرائزدیدیا

datetime 14  فروری‬‮  2018 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سید خورشید احمد شاہ نے وزارت داخلہ سے مطالبہ کیا ہے کہ سابق وزیر اعظم نواز شریف ٗمریم نواز اور کیپٹن صفدر کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کیلئے نیب کے خط پر عملدرآمد کیا جائے ٗوزارت داخلہ نے نیب کے خط پر عملدرآمد نہ کیا تو شرجیل میمن کو آزاد کرنا پڑیگا ٗ قانون کے تحت سب کے ساتھ برابر سلوک کیا جانا چاہیے ٗمیثاق جمہوریت پر عملدرآمد میں نواز شریف بڑی رکاوٹ تھے ٗ

عوام کا راج اور جمہوریت چلنی چاہیے ٗادارے اپنا کام کریں ٗکوئی ادارہ دوسرے ادارے میں مداخلت نہ کرے ۔ منگل کو میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے خورشید شاہ نے کہا کہ وزارت داخلہ نے اگر نیب کے خط پر عملدرآمد نہ کیا تو شرجیل میمن کو آزاد کرنا پڑے گا اور نام ای سی ایل سے ہٹانا پڑے گا۔ خورشید شاہ نے کہا کہ قانون کے تحت سب کے ساتھ برابر سلوک کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ شریف خاندان کے خلاف ریفرنس ہے شرجیل میمن کے خلاف ریفرنس بھی نہیں۔ خورشید شاہ نے کہا کہ شرجیل میمن خود پیش ہوئے تھے شریف خاندان کے لوگوں کو پکڑا گیا اور چھوڑا گیا جو غیر قانونی تھا۔ خورشید شاہ نے کہا کہ میثاق جمہوریت پر عملدرآمد میں نواز شریف بڑی رکاوٹ تھے۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف نے میمو سکینڈل میں میثاق جمہوریت کا مذاق اڑایا۔ خورشید شاہ نے کہا کہ 2014 میں ن لیگ ہاٹ واٹر میں آئی تو پی پی ساتھ کھڑی ہوئی۔ قائد حزب اختلاف نے کہا کہ میثاق جمہوریت کے تحت آصف زرداری نواز شریف کے گھر گئے۔ خورشید شاہ نے کہا کہ میثاق جمہوریت کے تحت قانونی تبدیلیاں لانے میں نواز شریف اور انکے اپوزیشن لیڈر نے مخالفت کی۔ خورشید شاہ نے کہا کہ میثاق جمہوریت پر عمل ہوتا تو نواز شریف کو یہ دن نہ دیکھنا پڑتا۔ انہوں نے کہا کہ میثاق جمہوریت کے تحت عدلیہ دو حصوں میں تقسیم ہونا تھی ٗ ایک آئینی اور ایک موجودہ، اس پر عمل ہوتا تو بڑا مسئلہ حل ہو جاتا۔ خورشید شاہ نے کہا کہ ججز تقرری کے طریقہ سے متعلق 18 ویں ترمیم میں نواز شریف نے رکاوٹ ڈالی۔

انہوں نے کہا کہ نواز شریف کو آج انہی کہ بدولت یہ دیکھنا پڑ رہا ہے۔ خورشید شاہ نے کہا کہ نیب پر متفقہ قانون لانے کا کہا تو ن لیگ کے اپوزیشن لیڈر نے مخالفت کی۔ ن لیگ کے اپوزیشن لیڈر نے کیوں کیا ٗکس کے کہنے پر کیا ٗ انہیں آگے کیا نظر آ رہا تھا؟ سید خورشید شاہ نے کہا کہ جس قانون کے تحت نواز شریف پھنسے۔ ہم نے کوشش کی کہ پانامہ مسئلہ پارلیمنٹ میں حل ہو۔ خورشید شاہ نے کہا کہ ہم نے بہت کوشش کی پارلیمانی کمیٹی بنائی لیکن وہ باز نہ آئے۔ انہوں نے کہا کہ میاں صاحب نے سمجھا کہ معاملہ عدالت میں جانے سے لمبا چلے گا تو فائدہ ہو گا۔سید خورشید شاہ نے کہا کہ جو لیڈر اپنے فائدے کا سوچے تو وہ خود اس میں پھنس جاتا ہے ٗانہوں نے کہا کہ ملک میں خیر ہونی چاہیے ٗ امن ہو اور پارلیمنٹ چلے ٗ خورشید شاہ نے کہا کہ عوام کا راج اور جمہوریت چلنی چاہیے ٗادارے اپنا کام کریں ٗکوئی ادارہ دوسرے ادارے میں مداخلت نہ کرے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…