بدھ‬‮ ، 14 جنوری‬‮ 2026 

لودھراں میں موروثی سیاست کو شکست ہوئی، خورشید شاہ

datetime 13  فروری‬‮  2018 |

اسلام آباد(آئی این پی ) قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر سید خورشید شاہ نے کہا ہے کہ این اے 154 کے ضمنی انتخاب میں عوام نے موروثی سیاست پر پی ٹی آئی کو شکست دی،موروثی سیاست کو ختم کرنے کے دعویدار عمران خان نے اپنے کہے کے برعکس عمل کیا،سینیٹ انتخابات میں ہارس ٹریڈنگ سے میرا کوئی تعلق نہیں،کوشش ہوگی کہ بہترین شخص کو نگراں وزیراعظم بنایا جائے ۔

عوام بھی ہمیں وہ اپنی مرضی کے اچھے نام بتائیں۔اسلام آباد میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے پارلیمنٹ میں قائدِ حزبِ اختلاف خورشید شاہ نے کہا کہ اسمبلی کی مدت پوری ہونے میں صرف 3 ماہ باقی ہیں، اب نگران وزیراعظم کے لئے مشاورتی عمل شروع ہو جانا چاہیے لیکن تاحال وزیراعظم کی جانب سے کوئی رابطہ نہیں کیا گیا اور نا ہی کوئی مشاورتی عمل شروع ہوسکا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہماری کوشش ہوگی کہ بہترین شخص کو نگراں وزیراعظم بنایا جائے اور اس کے لئے عوام کو بھی چاہئے کہ ہمیں وہ اپنی مرضی کے اچھے نام بتائیں تاکہ مشاورت میں ان پر غور کیا جاسکے۔این اے 154 لودھراں میں تحریک انصاف کی شکست پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے خورشید شاہ نے کہا کہ عمران خان کا مقف تھا کہ موروثی سیاست ختم ہونی چاہیے لیکن انہوں نے اپنے کہے کے برعکس خود موروثی سیاست پر عمل کیا اور شائد اسی وجہ سے عوام نے بھی اپنے ووٹ کے ذریعے منفی جواب دیا اور موروثی سیاست کو شکست ہوگئی۔سینیٹ میں ہارس ٹریڈنگ کے ایم کیوایم کے الزام کو مسترد کرتے ہوئے خورشید شاہ کا کہنا تھا کہ سینیٹ انتخابات میں ہارس ٹریڈنگ سے میرا کوئی تعلق نہیں، نا ہی میں نے کسی کو ایک روپیہ دیا، ایم کیوایم خود سینیٹ کی لڑائی میں پڑی ہے اور یہ لڑائی پیسوں پر کی جارہی ہے جب کہ بدنام ہم ہورہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ متحدہ پاکستان کے بہت سے بڑے نام ہمارے رابطے میں ہیں کیوں کہ انہیں بھی پتہ ہے کہ کراچی کے مسائل کا حل پیپلز پارٹی کے پاس ہے۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ونڈر بوائے


یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…