منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

لودھراں میں موروثی سیاست کو شکست ہوئی، خورشید شاہ

datetime 13  فروری‬‮  2018 |

اسلام آباد(آئی این پی ) قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر سید خورشید شاہ نے کہا ہے کہ این اے 154 کے ضمنی انتخاب میں عوام نے موروثی سیاست پر پی ٹی آئی کو شکست دی،موروثی سیاست کو ختم کرنے کے دعویدار عمران خان نے اپنے کہے کے برعکس عمل کیا،سینیٹ انتخابات میں ہارس ٹریڈنگ سے میرا کوئی تعلق نہیں،کوشش ہوگی کہ بہترین شخص کو نگراں وزیراعظم بنایا جائے ۔

عوام بھی ہمیں وہ اپنی مرضی کے اچھے نام بتائیں۔اسلام آباد میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے پارلیمنٹ میں قائدِ حزبِ اختلاف خورشید شاہ نے کہا کہ اسمبلی کی مدت پوری ہونے میں صرف 3 ماہ باقی ہیں، اب نگران وزیراعظم کے لئے مشاورتی عمل شروع ہو جانا چاہیے لیکن تاحال وزیراعظم کی جانب سے کوئی رابطہ نہیں کیا گیا اور نا ہی کوئی مشاورتی عمل شروع ہوسکا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہماری کوشش ہوگی کہ بہترین شخص کو نگراں وزیراعظم بنایا جائے اور اس کے لئے عوام کو بھی چاہئے کہ ہمیں وہ اپنی مرضی کے اچھے نام بتائیں تاکہ مشاورت میں ان پر غور کیا جاسکے۔این اے 154 لودھراں میں تحریک انصاف کی شکست پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے خورشید شاہ نے کہا کہ عمران خان کا مقف تھا کہ موروثی سیاست ختم ہونی چاہیے لیکن انہوں نے اپنے کہے کے برعکس خود موروثی سیاست پر عمل کیا اور شائد اسی وجہ سے عوام نے بھی اپنے ووٹ کے ذریعے منفی جواب دیا اور موروثی سیاست کو شکست ہوگئی۔سینیٹ میں ہارس ٹریڈنگ کے ایم کیوایم کے الزام کو مسترد کرتے ہوئے خورشید شاہ کا کہنا تھا کہ سینیٹ انتخابات میں ہارس ٹریڈنگ سے میرا کوئی تعلق نہیں، نا ہی میں نے کسی کو ایک روپیہ دیا، ایم کیوایم خود سینیٹ کی لڑائی میں پڑی ہے اور یہ لڑائی پیسوں پر کی جارہی ہے جب کہ بدنام ہم ہورہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ متحدہ پاکستان کے بہت سے بڑے نام ہمارے رابطے میں ہیں کیوں کہ انہیں بھی پتہ ہے کہ کراچی کے مسائل کا حل پیپلز پارٹی کے پاس ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…