اتوار‬‮ ، 23 اگست‬‮ 2026 

مسلم امہ متحد ہو گئی، نتائج کا ذمہ دار امریکہ خود ہو گا، اسلامی ممالک نے امریکہ کو کھلے عام دھمکی دیدی

datetime 14  دسمبر‬‮  2017 |

ریاض(مانیٹرنگ ڈیسک) سعودی فرماروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے کہا ہے کہ بیت المقدس سے متعلق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے فیصلے پر سعودی عرب کو گہری تشویش ہے۔استنبول میں ہونیوالے او آئی سی اجلاس کے دوسرے سیشن سے خطاب کرتے ہوئے شاہ سلمان نے یقین دہانی کرائی کہ سعودی عرب فلسطینیوں کے حقوق کے حصول تک حمایت جاری رکھے گا۔انہوں نے کہا کہ سعودی حکومت دہشت گردی اور اس کے سہولت کاروں کے

خلاف جدوجہد جاری رکھے گی، بدعنوانی کے خلاف کارروائیوں میں انصاف کے تقاضوں کو یقینی بنایا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ ملکی ترقی میں عوام اور نجی اداروں کی شرکت میں مدد اور سہولتیں فراہم کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ خلیجی ممالک کے اندرونی معاملات میں مداخلت کو روکنے کیلئے سرگرم ہیں۔اس سے قبل او آئی سی اجلاس سے خطاب میں ترک صدر رجب طیب اردوان نے اسرائیل کو دہشت گرد ریاست قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ کی جانب سے مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کرنا عالمی قوانین کی خلاف ورزی اور اخلاقیات کی اقدار کے منافی ہے جبکہ امریکی فیصلہ انتہا پسندوں کے مفاد میں ہے۔انہوں نے کہا کہ فلسطین کے رقبے میں نمایاں کمی آرہی ہے، اسرائیل قابض اور دہشت گرد ریاست ہے جب کہ امریکی فیصلہ اسرائیل کے دہشت گردی اقدامات پر انہیں تحفہ دینے کے مترادف ہے۔فلسطینی صدر محمود عباس نے اپنے خطاب میں کہا کہ ہم فلسطین کے امن عمل میں امریکا کے کسی کردار کو تسلیم نہیں کرتے، عالمی قوانین کی خلاف ورزی پر دنیا خاموش نہیں رہ سکتی۔ایرانی صدر حسن روحانی نے اپنے خطاب میں کہا کہ مقبوضہ بیت المقدس سے متعلق امریکی فیصلے سے ثابت ہوتا ہے کہ امریکہ امن عمل میں ایماندار ثالث نہیں جب کہ فلسطینی عوام اپنے حقوق کے حصول پر زور دے رہے ہیں۔ تمام مسلم ممالک امریکہ کے خلاف متحد ہو گئے ہیں اور انہوں نے کہا کہ اگر امریکہ اپنے موقف پر قائم

رہا تو نتائج کا خود ذمہ دار ہو گا۔ او آئی سی اعلامیہ میں امریکا سے مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کا فیصلہ واپس لینے کا مطالبہ کیا گیا،ترکی کے شہر استنبول میں ہونے والا او آئی سی کا اجلاس اختتام پذیر ہوگیا ہے۔ اجلاس کے اختتامی اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ امریکی صدر کے القدس سے متعلق فیصلے کے انتہائی خطرناک نتائج سامنے آئیں گے،امریکا فوری بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کا فیصلہ واپس لے، بصورت دیگر خطرناک نتائج کا امریکا خود ذمہ دار ہوگا۔ اسلامی تنظیم کے اجلاس میں مسلم ممالک نے متفقہ طور پر بیت المقدس کو آزاد فلسطین کا دارالحکومت قرار دینے کا اعلان بھی کیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…