جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

بچوں میں غذائی قلت دور کرنے کیلئے انقلابی پروگرام کا آغاز

datetime 8  ‬‮نومبر‬‮  2017 |

کراچی (این این آئی)صوبائی حکومت نے بچوں میں غذائی قلت کے خاتمے کیلئے ایک نیا منصوبہ تشکیل دیا ہے جس کے تحت آٹے اور گھی میں آئرن کی مخصوص مقدار ملائی جائے گی اور اس مقصد کے لئے فلوروگھی ملز کو پابند کیا جائے گا۔ذرائع کے مطابق اس ضمن میں فلور ملز مالکان سے حکومتی مذاکرات جاری ہیں تاہم فلو ر ملز

مالکان کی جانب سے آئرن کے پیسے طلب کیے جارہے ہیں جبکہ حکومت کا اصرار ہے کہ آئرن مفت ملائی جائے ۔ذرائع کے مطابق فلور ملز کے بعد گھی ملز ٗ مالکان سے بھی بات کی جائیگی اور انہیں پابند کیا جائے گا کہ گھی میں آئرن کی مقررہ مقدار ملائیں تاکہ صوبے کے بچوں میں غذائی قلت کو پیدا ہی نہ ہونے دیا جائے ۔ذرائع کے مطابق کچھ عرصہ قبل عالمی ادارہ صحت کے صدر کی وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ سے ملاقات کے دوران دی جانے والی تجویز پر یہ منصوبہ شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا ۔واضح رہے کہ صوبے میں5سال سے کم عمر کے 42فیصد بچوں کا وزن مقررہ مقدار سے کم ہے۔ 48فیصد بچوں میں نشونما کی کمی ہے جبکہ 15فیصد جسامت کے لحاظ سے انتہائی کمزور ہیں۔یونیسیف اور بیورو آف اسٹیٹسٹک پلاننگ اینڈ ڈیویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ حکومت سندھ کی جانب سے کیے گئے سندھ ملٹی پل انڈیکیٹر کلسٹر سروے کے مطابق صوبے میں 29فیصد بچوں کو 6ماہ کی عمر تک مائیں اپنا دودھ نہیں پلاتیں صرف 21فیصد بچوں کو مائیں پیدائش کے فوراً بعدا پنا دودھ پلاتی ہیں جبکہ 30فیصد نومولود بچوں کا وزن پیدائش کے وقت مقررہ مقدار سے کم ہوتا ہے جسے پورا کرنے کے لئیحکومتی اداروں کی جانب سے اقدامات کی ضرورت ہے۔اس ضمن میں گفتگو کرتے ہوئے نیوٹریشن سپورٹ پروگرام سندھ کی کوآرڈینیٹر ڈاکٹر درناز جمال نے بتایا کہ بچوں میں وزن اور غذائیت کی کمی کی کئی وجوہات ہیں جن میں قبل

ازوقت پیدائش کی شرح کا بہت زیادہ ہونا، چھوٹی عمر میں شادیوں کے نتیجے میں بچے ہونا، بچوں میں وقفہ نہ ہونا، زیادہ بچے ہونا،صاف پانی ، صفائی ستھرائی ، باتھ روم نہ ہونااور مختلف بیماریاں ہونے سمیت دیگر کئی وجوہات شامل ہیں جس سے بچوں کی ہلاکت ہوتی ہیاسے قابو کرنے کیلئے فورٹیفیکیشن الائنس کے نام سے نیا منصوبہ شروع کیا گیا ہے جس کا قانون منظور ہو کر بورڈ بنے گااور پھر عملدرآمد شروع ہوجائے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…