بدھ‬‮ ، 14 جنوری‬‮ 2026 

ملاوی میں ڈریکولا ہونے کے شبے پر کئی افراد قتل،140 افراد گرفتار

datetime 6  ‬‮نومبر‬‮  2017 |

ماسکو(آئی این پی) جنوب مشرقی افریقہ کے ملک ملاوی میں ڈریکولا ہونے کے شبے پر کئی افراد کو قتل کردیا گیا ۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق ملاوی میں اس وقت ویمپائر اور ڈریکولا کی افواہیں اور خوف اس حد تک بڑھ چکا ہے کہ لوگ ہیجان کے شکار ہوکر عام بے گناہ افراد کو ڈریکولا کے شبے میں قتل کررہے ہیں۔جنوب

مشرقی افریقی ملاوی کے گلی محلوں میں اپنی مدد آپ کے تحت لوگوں کے گروہ بن گئے ہیں تاکہ وہ کسی مشتبہ شخص سے اپنے پیاروں کو بچاسکیں لیکن اس جنون میں ستمبر سے اب تک 9 افراد ڈریکولا کے الزام میں بے دردی سے قتل کئے جاچکے ہیں۔ملاوی کے دوسرے بڑے شہر بلینٹائر میں اب تک 2 افراد کو پتھروں سے کچل کر اور زندہ جلاکر مارا گیا ہے جب کہ 140 افراد کو گرفتار کیا جاچکا ہے جن پر خود ساختہ طور پر ڈریکولا کے شکاری کا الزام تھا اور وہ جگہ جگہ خون پینے والے فرضی افراد کو ڈھونڈ رہے تھے۔بعض ذرائع کے مطابق پہلے پڑوسی ملک موزمبیق میں ڈریکولا کی افواہوں نے زور پکڑا جہاں اس سے قبل بھی نام نہاد ڈریکولا کی سچی جھوٹی خبروں پر فسادات ہوئے تھے۔ اقوامِ متحدہ کے مطابق موزمبیق اور ملاوی سرحد کے پاس مولانجے اور فالومبے نامی دو ضلعوں میں ان کہانیوں نے جنم لیا ہے۔یہ نام نہاد ویمپائر شکاریوں نے ڈاکٹروں اور صحت کے شعبہ سے تعلق رکھنے والے افراد کو نشانہ بنانا شروع کیا یعنی وہ ڈاکٹروں کی اسٹیتھوسکوپ کو غلطی سے خون چوسنے کا کوئی آلہ سمجھ کر ان پر حملے کرتے رہے۔ اس کے علاوہ کئی ڈاکٹروں کو لوٹا گیا اور ان کی املاک و گاڑیوں کو شدید نقصان پہنچایا گیا۔ یہاں تک کہ ایمبولینس کو بھی نہیں بخشا گیا ۔ ملاوی میں ڈاکٹروں کی تنظیم کے مطابق اب یہ پاگل پن پوری قوم میں کسی جنون کی طرح پھیل چکا

ہے۔ملاوی میں ڈاکٹروں کی تنظیم کے صدر آموس سیلمنڈا نیاکا کہتے ہیں کہ پہلے اکا دکا واقعات ہوئے اور اس کے بعد افواہوں کا بازار گرم ہوگیا ۔ یہاں تک کہ ہر شخص ایک دوسرے کو شک کی نظر سے دیکھنے لگا اور اب یہ قومی المیہ بن چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈریکولا اور خون چوسنے والے انسانوں کا کوئی وجود نہیں یہ محض افواہ اور خیالی باتیں ہیں۔پولیس کے مطابق متاثرہ علاقوں میں گشت بڑھادی گئی ہے جب کہ عام افراد کو

ویمپائر قرار دے کر قتل کرنے یا حملہ کرنے والوں کو فوری طور پر گرفتار کیا جائے گا۔دوسری جانب ملاوی کے صدر پیٹر موتھاریکا بھی اس سے صورتحال سے پریشان ہیں اور اسے حکومت کے لیے لمحہ فکریہ قرار دیا ہے۔ انسانی حقوق کے ماہرین کے مطابق یہ توہمات، فرضی کہانیاں اور معاشرتی عقائد ان پڑھ اور غریب علاقوں میں ذیادہ پائے جاتے ہیں۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ونڈر بوائے


یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…