اتوار‬‮ ، 30 ‬‮نومبر‬‮ 2025 

ملاوی میں ڈریکولا ہونے کے شبے پر کئی افراد قتل،140 افراد گرفتار

datetime 6  ‬‮نومبر‬‮  2017 |

ماسکو(آئی این پی) جنوب مشرقی افریقہ کے ملک ملاوی میں ڈریکولا ہونے کے شبے پر کئی افراد کو قتل کردیا گیا ۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق ملاوی میں اس وقت ویمپائر اور ڈریکولا کی افواہیں اور خوف اس حد تک بڑھ چکا ہے کہ لوگ ہیجان کے شکار ہوکر عام بے گناہ افراد کو ڈریکولا کے شبے میں قتل کررہے ہیں۔جنوب

مشرقی افریقی ملاوی کے گلی محلوں میں اپنی مدد آپ کے تحت لوگوں کے گروہ بن گئے ہیں تاکہ وہ کسی مشتبہ شخص سے اپنے پیاروں کو بچاسکیں لیکن اس جنون میں ستمبر سے اب تک 9 افراد ڈریکولا کے الزام میں بے دردی سے قتل کئے جاچکے ہیں۔ملاوی کے دوسرے بڑے شہر بلینٹائر میں اب تک 2 افراد کو پتھروں سے کچل کر اور زندہ جلاکر مارا گیا ہے جب کہ 140 افراد کو گرفتار کیا جاچکا ہے جن پر خود ساختہ طور پر ڈریکولا کے شکاری کا الزام تھا اور وہ جگہ جگہ خون پینے والے فرضی افراد کو ڈھونڈ رہے تھے۔بعض ذرائع کے مطابق پہلے پڑوسی ملک موزمبیق میں ڈریکولا کی افواہوں نے زور پکڑا جہاں اس سے قبل بھی نام نہاد ڈریکولا کی سچی جھوٹی خبروں پر فسادات ہوئے تھے۔ اقوامِ متحدہ کے مطابق موزمبیق اور ملاوی سرحد کے پاس مولانجے اور فالومبے نامی دو ضلعوں میں ان کہانیوں نے جنم لیا ہے۔یہ نام نہاد ویمپائر شکاریوں نے ڈاکٹروں اور صحت کے شعبہ سے تعلق رکھنے والے افراد کو نشانہ بنانا شروع کیا یعنی وہ ڈاکٹروں کی اسٹیتھوسکوپ کو غلطی سے خون چوسنے کا کوئی آلہ سمجھ کر ان پر حملے کرتے رہے۔ اس کے علاوہ کئی ڈاکٹروں کو لوٹا گیا اور ان کی املاک و گاڑیوں کو شدید نقصان پہنچایا گیا۔ یہاں تک کہ ایمبولینس کو بھی نہیں بخشا گیا ۔ ملاوی میں ڈاکٹروں کی تنظیم کے مطابق اب یہ پاگل پن پوری قوم میں کسی جنون کی طرح پھیل چکا

ہے۔ملاوی میں ڈاکٹروں کی تنظیم کے صدر آموس سیلمنڈا نیاکا کہتے ہیں کہ پہلے اکا دکا واقعات ہوئے اور اس کے بعد افواہوں کا بازار گرم ہوگیا ۔ یہاں تک کہ ہر شخص ایک دوسرے کو شک کی نظر سے دیکھنے لگا اور اب یہ قومی المیہ بن چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈریکولا اور خون چوسنے والے انسانوں کا کوئی وجود نہیں یہ محض افواہ اور خیالی باتیں ہیں۔پولیس کے مطابق متاثرہ علاقوں میں گشت بڑھادی گئی ہے جب کہ عام افراد کو

ویمپائر قرار دے کر قتل کرنے یا حملہ کرنے والوں کو فوری طور پر گرفتار کیا جائے گا۔دوسری جانب ملاوی کے صدر پیٹر موتھاریکا بھی اس سے صورتحال سے پریشان ہیں اور اسے حکومت کے لیے لمحہ فکریہ قرار دیا ہے۔ انسانی حقوق کے ماہرین کے مطابق یہ توہمات، فرضی کہانیاں اور معاشرتی عقائد ان پڑھ اور غریب علاقوں میں ذیادہ پائے جاتے ہیں۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



جنرل فیض حمید کے کارنامے(آخری حصہ)


جنرل فیض حمید اور عمران خان کا منصوبہ بہت کلیئر…

جنرل فیض حمید کے کارنامے(چوتھا حصہ)

عمران خان نے 25 مئی 2022ء کو لانگ مارچ کا اعلان کر…

جنرل فیض حمید کے کارنامے(تیسرا حصہ)

ابصار عالم کو 20اپریل 2021ء کو گولی لگی تھی‘ اللہ…

جنرل فیض حمید کے کارنامے(دوسرا حصہ)

عمران خان میاں نواز شریف کو لندن نہیں بھجوانا…

جنرل فیض حمید کے کارنامے

ارشد ملک سیشن جج تھے‘ یہ 2018ء میں احتساب عدالت…

عمران خان کی برکت

ہم نیویارک کے ٹائم سکوائر میں گھوم رہے تھے‘ ہمارے…

70برے لوگ

ڈاکٹر اسلم میرے دوست تھے‘ پولٹری کے بزنس سے وابستہ…

ایکسپریس کے بعد(آخری حصہ)

مجھے جون میں دل کی تکلیف ہوئی‘ چیک اپ کرایا تو…

ایکسپریس کے بعد(پہلا حصہ)

یہ سفر 1993ء میں شروع ہوا تھا۔ میں اس زمانے میں…

آئوٹ آف سلیبس

لاہور میں فلموں کے عروج کے زمانے میں ایک سینما…

دنیا کا انوکھا علاج

نارمن کزنز (cousins) کے ساتھ 1964ء میں عجیب واقعہ پیش…