اتوار‬‮ ، 07 جون‬‮ 2026 

’’7قتل، ایمان کے نام پر عمران، دربار میں بینظیر کے نعرے‘‘ مرید حسین قریشی کےبھرے دربار میں اپنے بھائی شاہ محمود قریشی پر سنگین ترین الزامات

datetime 28  اکتوبر‬‮  2017 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)حضرت بہائو الدین زکریاؒ کے عرس کی تقریبات کے دوران تحریک انصاف کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی کے بھائی اور پیپلزپارٹی کے رہنما مرید حسین قریشی کی جانب سے بھرے دربار میں زائر پر تھپڑوں کی بارش کے بعد انہوں نے زکریاؒ کانفرنس کے سٹیج کو استعمال کرتے ہوئے ایک دھواں دار تقریر کی تھی جس میں انہوں نے اپنے

بھائی وائس چیئرمین تحریک انصاف شاہ محمود قریشی کو قاتل، حق کھانے والا اور درباروں کا تقدس پامال کرنے والا قرار دیتے ہوئے شدید تنقید کی ۔ مرید حسین قریشی کا کہنا تھا کہ میں حیران ہوں جو آج یہاں دربار کی عزت اور تقدس کی بات کررہے ہیں وہ چند دن قبل سندھ میں دربار کا تقدس پامال کرتے نظر آرہے تھے۔ مرید حسین قریشی نے اپنے بھائی شاہ محمود قریشی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ یہ دستار میں نے آپ کو 20سال قبل دی تھی جس کا میں آج احتساب چاہتا ہوں، کیا آپ نے اس گدی پر بیٹھ کر اس کو سیاسی بنایا یا روحانی، یہ گدی میں نے آپ کو سیاست کیلئے نہیں دی تھی بھائی صاحب!۔ انہوںنے عرس پر آئے زائرین اور مریدین کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ میں آپ سے سوال کرتا ہوں، آپ لوگ یہاں ایمان کیلئے آئے ہیں یا عمران کیلئے؟اگر تمہارے ایمان کا سودا تمہارا مرشد کرنے لگ جائے تو تمہیں بچانے کون آئے گا، انہوں نے شاہ محمود قریشی پر الزام عائد کرتے ہوئے کانفرنس کے شرکا کو کہا کہ آپ یہاں روحانی سکون کیلئے آتے ہیں جب کہ شاہ محمود قریشی آپ کو دنیا کے سامنے اپنا ووٹر بنا کر پیش کرتا ہے۔ مجھے اپنے اجداد کی گدی پر بیٹھے اس انسان کی یہ حرکت پسند نہیں۔ انہوں نےاس موقع پر ایک بار پھر شاہ محمود قریشی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ یہ تو کلیم کرتے ہیں کہ میں 800سال پرانے

رشتے کو نبھانے کیلئے آیا ہوں، اور ان کے ایمان کا سودا آپ جا عمران کے ساتھ کرتے ہیں۔یہ نہیں ہو سکتا ہے کہ آپ جہاں چاہیں جا کر جماعت غوثیہ کو بیچتے پھریں، میں اس کی اجازت ہر گز ہرگز نہیں دوں گا۔ اگر آپ سندھ میں جا کر میری جماعت کے لیڈرزرداری صاحب کو برا بھلا کہہ سکتے ہیں تو آپ کے عمران کے بھی کوئی پر نہیں لگے ہوئے، اور قلندر نے ثابت کر دیا اور

اسے اپنے دربار میں گھسنے تک نہیں دیا۔ عمران تین بار ملتان آیاکیا آپ میں اتنی جرأت تھی کہ اسے اپنے غوث ، اپنے دربار پر لے آتے ، لال شہباز قلندر کے مزار پر تو آپ لڑ رہے تھے۔ اپنی دربار پر تو آپ عمران کو لا نہیں سکے، آپ نے بھی قبر میں جانا ہےاور قبر کیلئے دو گز زمین چاہئے ہوتی ہے اور آپ کے پاس تو بہت زمین ہو گی، لوگوں کے حق کھا کر آپ بیٹھیں ہیں، میرا حق

کھا کر آپ بیٹھے ہیں اور جب بھی میں نے آپ سے اپنا حق مانگا تحفےمیں مجھے ایک لاش ملی، سات قتل کروا کر بیٹھے ہیں آپ۔ اس کا جواب کون دے گا۔ اس وقت تک میں چپ تھا جب شاہ محمود میرا بھائی تھا جب خاندان سے علیحدگی آپ اختیار کر چکے ہیں تو اب آپ کو جواب بھی دینے پڑیں گے، سات قتلوں کے بھی حساب دینے پڑیں گے اور میرے والد کے فوت ہونے

کے بعد کا میرا حصہ جو آج تک آپ کھا کر بیٹھیں ہیں۔ اس سے قبل جب مرید حسین قریشی زائر سے الجھ کر سٹیج پر پہنچے تو وہاں انہوںنے شاہ محمود قریشی سے گلے شکوے بھی کئے تاہم اپنی گلوں اور شکووں کا مداوا نہ ہونے پر انہوں نے زائرین سے خطاب کا اعلان کیا اور خطاب کیا اس دوران شاہ محمود قریشی کہتے بھی رہے کہ یہ عرس کی محفل ہے اسے شکوہ جواب شکوہ کی محفل نہ بنایا جائے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



تلوم اور تلوم سے آگے


ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…