منگل‬‮ ، 04 اگست‬‮ 2026 

تہران حکومت اور جرمن آمر ہٹلر کی پالیسیاں ایک جیسی ہیں ، نیتن یاہو

datetime 16  اپریل‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو نے دوسری عالمی جنگ کے دوران لاکھوں یہودیوں کے قتل عام کی یاد تازہ کرتے ہوئے ایران کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے جوہری معاہدے کے حوالے سے عالمی طاقتوں کے موقف کو غلط قرار دیا ہے۔نیتن یاہو نے تہران حکومت کی پالیسیوں کو ہٹلر کے آمرانہ دور کی پالیسیوں سے مماثل قرار دیا ہے۔ ا±ن کے بقول ایران کی خارجہ سیاست نازیوں کی مخالفین کو تعاقب اور جبر و تشدد کا نشانہ بنانےکی پالیسیوں سے مطابقت رکھتی ہے۔ ٹیلی وژن پر اپنے ایک خطاب میں انہوں نے مزید کہا کہ نازی ہدف بنا کر یہودیوں کو قتل کرنا چاہتے تھے اور دنیا پر صرف ایک اعلٰی نسل کی حکمرانی کے خواہاں تھے۔ نیتن یاہو کے مطابق ایران بھی مشرق وسطٰی کے کچھ علاقوں پر اپنی حاکمیت قائم کر کے اسرائیل کو تباہ کرنے کی بات کرتا ہے۔اسرائیل میں جمعرات سولہ اپریل کو دوسری عالمی جنگ کے دور میں ہٹلر کی فوجوں کے ہاتھوں ہلاک کیے جانے والے چھ لاکھ یہودیوں کی یاد منائی گئی۔ اس دوران پولینڈ میں بھی تقریباً دس ہزار یہودےوں نے ”زندہ بچ جانے والوں کے مارچ“ کے نام سے ایک ریلی نکالی۔ اس ریلی میں شرکت کرنے کے لیے متعدد ممالک میں رہائش پذیر یہودیوں نے پولینڈ کا رخ کیا ہے۔ ان افراد نے ہولوکاسٹ کے حوالے سے معروف ترین اذیتی مرکز آو¿شوٹس سے لے کر برکیناو¿ کے اذیتی کیمپ تک مارچ کےا ۔ہلاک کیے جانے والے یہودیوں کی یاد میں یروشلم میں قائم یاد واشم نامی یادگار میں نازیوں سے آزادی حاصل کرنے کے ستر برس پورے ہونے پر خصوصی تقریبات منعقد کی گئےں۔ یاد واشم پر اپنے خطاب میں بھی اسرائیلی وزیر اعظم نے ایران اور چھ عالمی طاقتوں کے مابین ابھی حال ہی طے پانے والے عارضی جوہری معاہدے کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا:”ایران کے ساتھ ایک برا معاہدہ کیا گیا ہے اور اس دوران عالمی طاقتوں نے ایران میں بلند ہونے والے ”ڈیتھ ٹو امریکا اور ڈیتھ ٹو اسرائیل، جیسے نعروں پر کان نہیں دھرے۔“ نیتن یاہو نے مزید کہا کہ دوسری عالمی جنگ سے قبل جمہوری حکومتوں نے غلط پالیسیاں اپنائی تھیں اور ’آج ہم اپنی بہت سے پڑوسیوں کے ساتھ مل کر غلط فیصلے کرنے پر مصر ہیں‘۔اسرائیل میں نیشنل ہولوکاسٹ ڈے کی تقریبات سورج غروب ہونے تک جاری رہیں گی۔ اس دوران پارلیمنٹ سمیت ملک بھر میں خصوصی اجتماعات منعقد ہو رہے ہیں۔ اس موقع پر عالمی وقت کے مطابق علی الصبح سات بجے ملک بھر میں سائرن بجایا گیا، جس کا مطلب دو منٹ کی خاموشی اختیار کرنا تھا۔ اس موقع پر ٹریفک رک جاتی ہے اور پیدل چلنے والے بھی اپنی جگہوں پر ٹھہر جاتے ہیں۔ آج اسرائیلی ٹیلی وڑن اور ریڈیو بھی ہولوکاسٹ کے دوران ڈھائے جانے والے مظالم پر خصوصی پروگرام نشر کریں گے اور سامعین کو غمگین موسیقی سنائی جائے گی۔ اس دوران کوئی بھی تفریحی پروگرام نشر نہیں کیا جائے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)


گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…