بدھ‬‮ ، 14 جنوری‬‮ 2026 

آج آمر کا بنایا قانون اس کے منہ پر دے مارا میں بھی کیا چیز ہوں مجھے بار بار نکالتے ہیں اورپھر۔۔ نواز شریف آخر دل کی بات زبان پر لےہی آئے

datetime 3  اکتوبر‬‮  2017 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) میرے دل میں بہت غصہ ہے اگر اعتراف نہ کیا تو یہ منافقت ہوگی، میں بھی کیا چیز ہوں مجھے بار بار سیاست سے نکالنے کی کوشش کی گئی لیکن مسلم لیگ کے کارکن مجھے بار بار واپس لاتے رہے، تمیز الدین سے پاناما اور بے نظیر بھٹو قتل کیس کے فیصلے تک مقبول وزرائے اعظم کو پھانسی چڑھایا گیا اور اقتدار سے بے دخل کیا گیا، لیکن

چاروں آمروں کی آئین شکنی کو ناجائز قرار نہیں دیا گیا بلکہ آمروں کی غیر مشروط وفاداری کے حلف اٹھائے گئے، آئین کی خلاف ورزی کرنے والے صادق بھی رہے امین بھی، حالات کو بدلنے کی کوشش نہ کی تو پاکستان ہمیں معاف نہیں کرے گا، نواز شریف کا کنونشن سینٹر اسلام آباد میں مسلم لیگ ن کی مرکزی جنرل کونسل اجلاس سے خطاب۔ تفصیلات کے مطابق سابق وزیراعظم نواز شریف نے اسلام آباد کنونشن سینٹر میں مسلم لیگ ن کی مرکزی جنرل کونسل اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ آج پھر سیاست میں داخل ہورہا ہوں،میں بھی کیا چیز ہوں مجھے بار بار سیاست سے نکالنے کی کوشش کی گئی لیکن مسلم لیگ کے کارکن مجھے بار بار واپس لاتے رہے، میرے دل میں بہت غصہ ہے اگر اعتراف نہ کیا تو یہ منافقت ہوگی۔پاکستان کا حق حکمرانی عوام کا حق ہے جس میں خیانت کا سلسلہ بند کیا جائے، تمیز الدین سے پاناما اور بے نظیر بھٹو قتل کیس کے فیصلے تک مقبول وزرائے اعظم کو پھانسی چڑھایا گیا اور اقتدار سے بے دخل کیا گیا، لیکن چاروں آمروں کی آئین شکنی کو ناجائز قرار نہیں دیا گیا بلکہ آمروں کی غیر مشروط وفاداری کے حلف اٹھائے گئے، آئین کی خلاف ورزی کرنے والے صادق بھی رہے امین بھی۔آمروں کے غیر آئینی کاموں کو جواز فراہم کرنے کیلئے نظریہ ضرورت کو ایجاد کیا گیا، کاش کوئی نظریہ

ضرورت عوام کے حق حکمران کیلئے ایجاد کیا جاتا، ہم اپنے ساتھ آزاد ہونے والے ممالک سے پیچھے رہ گئے،میں خبردار کررہا ہوں کہ حالات کو بدلنے کی کوشش نہ کی تو پاکستان ہمیں معاف نہیں کرے گا۔ نواز شریف نے ایک بار پھر اس موقع پر پانامہ کیس فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہاز شریف کو کرپشن یا بدعنوانی کے جرم میں نہیں بلکہ اس جرم میں نااہل کیا گیا

کہ اس نے اپنے بیٹے سے تنخواہ کیوں نہیں لی، کیا کسی ملک میں ایسا ہوتے دیکھا گیا ہے، ’وہ‘ اس بات کی بھی تحقیق کرلیں کہ وزارت عظمی کی تنخواہ بھی میں لیتا ہوں یا نہیں شاید کوئی اور فرد جرم بھی ان کو مل جائے۔ ارکان اسمبلی کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں جنہوں نے آمر کا قانون واپس اس کے منہ پر دے مارا، مجھے نااہل کرنے کی وجہ سب جانتے ہیں۔ آج مسلم لیگ

کے کارکنوں نے مجھے پوری قوت کے ساتھ واپس لایا ہے۔

موضوعات:



کالم



سہیل آفریدی کا آخری جلسہ


وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…