منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

آج آمر کا بنایا قانون اس کے منہ پر دے مارا میں بھی کیا چیز ہوں مجھے بار بار نکالتے ہیں اورپھر۔۔ نواز شریف آخر دل کی بات زبان پر لےہی آئے

datetime 3  اکتوبر‬‮  2017 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) میرے دل میں بہت غصہ ہے اگر اعتراف نہ کیا تو یہ منافقت ہوگی، میں بھی کیا چیز ہوں مجھے بار بار سیاست سے نکالنے کی کوشش کی گئی لیکن مسلم لیگ کے کارکن مجھے بار بار واپس لاتے رہے، تمیز الدین سے پاناما اور بے نظیر بھٹو قتل کیس کے فیصلے تک مقبول وزرائے اعظم کو پھانسی چڑھایا گیا اور اقتدار سے بے دخل کیا گیا، لیکن

چاروں آمروں کی آئین شکنی کو ناجائز قرار نہیں دیا گیا بلکہ آمروں کی غیر مشروط وفاداری کے حلف اٹھائے گئے، آئین کی خلاف ورزی کرنے والے صادق بھی رہے امین بھی، حالات کو بدلنے کی کوشش نہ کی تو پاکستان ہمیں معاف نہیں کرے گا، نواز شریف کا کنونشن سینٹر اسلام آباد میں مسلم لیگ ن کی مرکزی جنرل کونسل اجلاس سے خطاب۔ تفصیلات کے مطابق سابق وزیراعظم نواز شریف نے اسلام آباد کنونشن سینٹر میں مسلم لیگ ن کی مرکزی جنرل کونسل اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ آج پھر سیاست میں داخل ہورہا ہوں،میں بھی کیا چیز ہوں مجھے بار بار سیاست سے نکالنے کی کوشش کی گئی لیکن مسلم لیگ کے کارکن مجھے بار بار واپس لاتے رہے، میرے دل میں بہت غصہ ہے اگر اعتراف نہ کیا تو یہ منافقت ہوگی۔پاکستان کا حق حکمرانی عوام کا حق ہے جس میں خیانت کا سلسلہ بند کیا جائے، تمیز الدین سے پاناما اور بے نظیر بھٹو قتل کیس کے فیصلے تک مقبول وزرائے اعظم کو پھانسی چڑھایا گیا اور اقتدار سے بے دخل کیا گیا، لیکن چاروں آمروں کی آئین شکنی کو ناجائز قرار نہیں دیا گیا بلکہ آمروں کی غیر مشروط وفاداری کے حلف اٹھائے گئے، آئین کی خلاف ورزی کرنے والے صادق بھی رہے امین بھی۔آمروں کے غیر آئینی کاموں کو جواز فراہم کرنے کیلئے نظریہ ضرورت کو ایجاد کیا گیا، کاش کوئی نظریہ

ضرورت عوام کے حق حکمران کیلئے ایجاد کیا جاتا، ہم اپنے ساتھ آزاد ہونے والے ممالک سے پیچھے رہ گئے،میں خبردار کررہا ہوں کہ حالات کو بدلنے کی کوشش نہ کی تو پاکستان ہمیں معاف نہیں کرے گا۔ نواز شریف نے ایک بار پھر اس موقع پر پانامہ کیس فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہاز شریف کو کرپشن یا بدعنوانی کے جرم میں نہیں بلکہ اس جرم میں نااہل کیا گیا

کہ اس نے اپنے بیٹے سے تنخواہ کیوں نہیں لی، کیا کسی ملک میں ایسا ہوتے دیکھا گیا ہے، ’وہ‘ اس بات کی بھی تحقیق کرلیں کہ وزارت عظمی کی تنخواہ بھی میں لیتا ہوں یا نہیں شاید کوئی اور فرد جرم بھی ان کو مل جائے۔ ارکان اسمبلی کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں جنہوں نے آمر کا قانون واپس اس کے منہ پر دے مارا، مجھے نااہل کرنے کی وجہ سب جانتے ہیں۔ آج مسلم لیگ

کے کارکنوں نے مجھے پوری قوت کے ساتھ واپس لایا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…