منگل‬‮ ، 24 مارچ‬‮ 2026 

وزارت دفاع نے پاکستان کا اہم ترین ادارہ چینی کمپنی کو فروخت کرنے کی اجازت دیدی گئی

datetime 30  ستمبر‬‮  2017 |

کراچی(این این آئی)وزارت دفاع نے ابراج گروپ کے پاس موجود کے الیکٹرک کے 66.4 فیصد شیئرز کو چین کی شنگھائی الیکٹرک پاور کو فروخت کرنے کی سیکیورٹی کلیئرنس دے دی ہے۔میڈیا رپورٹ کے مطابق وزارت دفاع نے چین کی کمپنی کو کے الیکٹرک کی فروخت کی اجازت تو دیدی تاہم ابراج گروپ پر واجب الادا ایک ارب ڈالر کا معاملہ تاحال حل طلب ہے۔

رپورٹ کے مطابق وزارت داخلہ اور وزارت دفاع نے شنگھائی الیکٹرک پاور کو کے الیکٹرک کے 66.4 فیصد شیئرز کی فروخت کے لئے این او سی جاری کر دیا ہے۔وزارت دفاع کے ذرائع کے مطابق چین کی کمپنی کو اس شرط پر کے الیکٹرک کے شیئرز کی خریداری کی اجازت دی گئی ہے کہ وہ اہم دفاعی تنصیبات کو بلا تعطل بجلی فراہم کرے گی۔دوسری جانب پرائیویٹائزیشن کمیشن نے پاور ڈویژن سے کہا ہے کہ دفاعی تنصیبات کو بلا تعطل بجلی کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لئے کے الیکٹرک کے شیئرز خریدنے والی نئی کمپنی سے نئے سرے سے معاہدہ کیا جائے۔ پرائیویٹائزیشن کمیشن نے ابراج گروپ سے بھی خریدو فروخت کا معاہدہ پیش کرنے کا کہا جو انہوں نے پیش نہیں کیا۔پاور ڈویژن نے شنگھائی پاور سے کہا تھا کہ اگر وہ کے الیکٹرک کے شیئرز خریدنے میں دلچسپی رکھتی ہے تو پہلے وزارت دفاع اور وزارت داخلہ سے سیکیورٹی کلیئرنس حاصل کرے۔ یاد رہے کہ شنگھائی الیکٹرک پاور پہلے ہی پاکستان میں ایک نیوکلیئر پاور پلانٹ چلا رہی ہے۔وزارت دفاع کی جانب سے شنگھائی الیکٹرک پاور کو سیکیورٹی کلیئرنس ملنے کے بعد کے الیکٹرک کے شیئرز کی فروخت کی ڈیل فائنل ہونے میں حائل تمام رکاوٹیں دور ہو گئی ہیں۔ گزشتہ برس اگست میں ابراج گروپ نے کے الیکٹرک کے 66.4 فیصد شیئرز آف شور کمپنی کے ای ایس پاور کے ذریعے چین کی شنگھائی پاور کو فروخت کئے تھے۔

دونوں غیر ملکی کمپنیوں کے درمیان کے الیکٹرک کے شیئرز کی فروخت کی ڈیل ایک ارب 77 کروڑ ڈالر میں طے ہوئی جو حکومت اور شیئرز فروخت کرنے والی کمپنی کے درمیان معاملات حل ہونے کے بعد طے پائی۔ طے پانے والی ڈیل میں سے ابراج گروپ کو ایک ارب 77 کروڑ ڈالر میں سے آدھا حصہ ملے گا کیونکہ سعودی عرب سے تعلق رکھنے والے پہلے خریدار گروپ الجومیہ گروپ نے بھی آف شور کمپنی کے ذریعے سرمایہ کاری کر رکھی ہے۔

یعنی ڈیل کے مطابق ابراج گروپ کو 78 کروڑ 50 لاکھ ڈالر ملیں گے۔اس ضمن میں سیکرٹری پاور ڈویژن یوسف نسیم کھوکھر نے بتایا کہ ہمارے لئے سب سے اہم مسئلہ بقایاجات کی وصولی کا ہے لیکن شیئرز کی منتقلی اب تک شروع نہیں ہوئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بقایاجات کا معاملہ شیئرز فروخت کرنے والی پارٹی کو ڈیل کے طے پانے سے پہلے پہلے مکمل کرنا ہو گا کیوں کہ اس ڈیل کو بین الصوبائی رابطے کی کمیٹی دیکھ رہی ہے اور ڈیل میں طے پانے والی تمام شرائط پوری ہونے کے بعد ہی اسے منظور کیا جائے گا۔

سوئی سدرن گیس کمپنی اور نیشنل ٹرانسمیشن اینڈ ڈسپیچ (این ٹی ڈی سی)گیس، بجلی اور تاخیر سے ادائیگی کی مد میں ایک ارب 24 کروڑ روپے کا دعوی کرتی ہیں لیکن ابراج گروپ صرف حقیقی رقم ادا کرنے پر بضد ہے اور ان کا کہنا ہے کہ وہ سود کی رقم ادا نہیں کرے گا۔اس حوالے سے ابراج گروپ کا کہنا ہے کہ جب سے ڈیل میں طے پانے والی حقیقی رقم پر لگنے والے مارک اپ کا معاملہ عدالت میں زیر التوا ہے اس معاملے کو ڈیل کے ساتھ نہیں جوڑا جا سکتا لیکن پاور ڈویژن اور ایس ایس جی سی ابراج گروپ کا یہ موقف ماننے کے لئے بالکل بھی تیار نہیں ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



مذہب کی جنگ(آخری حصہ)


اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…