جمعہ‬‮ ، 26 جون‬‮ 2026 

دانتوں سے ناخن کترنے والے کمال پرست ہوتے ہیں؟ماہرین نے بتا دیا

datetime 28  مارچ‬‮  2015 |

لندن(نیوزڈیسک )ہم میں سے بہت سے لوگ ناخنوں کو غیر ارادی طور پر دانتوں سے کترتے ہیں جبکہ عمومی طور پر اس رویہ کو نروسنیس (گھبراہٹ) کی علامت کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ کسی فرد کا دانتوں سے ناخن چبانا، بالوں اور جلد کو نوچنا اور اسی طرح کی غیر اردای عادتوں کے پیچھے کونسی نفسیاتی وجوہات پوشیدہ ہو سکتی ہیں ؟اس سوال کا جواب اسی ماہ شائع ہونے والی یونیورسٹی آف مونٹریال کی تحقیق سے ملتا ہے جس میں سائنس دانوں نےناخن کترنے کی سائنسی توجہیہ پیش کرتے ہوئے اس رویہ کو کمال پرستی کےساتھ منسلک کیا ہے۔محققین نے بتایا کہ ایسے رویوں کے ساتھ لوگوں میں بے چینی کی علامت ظاہر نہیں ہوئی ہے بلکہ ناخنوں کو دانتوں سے کترنے والے افراد کو عام لوگوں کے مقابلے میں پرفیکشنسٹ کہا جا سکتا ہے۔کینیڈین سائنس دانوں کے مطالعے سے پتہ چلتا ہے کہ ناخن کترنے والے افراد دوسروں کے مقابلے میں ہرکام کو کامل طریقے سے انجام دینے پر یقین رکھتے ہیں بلکہ ان کا غیرمعمولی حد تک کمال پرست ہونا اصل میں ایسی غیر ارادی عادتوں کی وجہ ہو سکتا ہے۔نئی تحقیق کے مطابق چھوٹی چھوٹی سی باتوں پر مایوسی اور بے جینی محسوس کرنے والے افراد اور زیادہ بوریت محسوس کرنے والے لوگوں میں دانتوں سے ناخن چبانے، سر کے بالوں کو کھنیچنے اور اسی قسم کی جسم پر مرکوز بار بار دہرانے والے رویوں میں مبتلا ہونے کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔مطالعے کی مصنف محقق سارہ رابرٹسن جریدہ ‘جرنل آف بی ہیویئرتھراپی اینڈ ایکسپیریمینٹل سائکاٹری’ میں لکھتی ہیں کہ نتائج سے جزوی طور پر ہمارے نظریات کو حمایت ملتی ہے، شرکاءمیں اس طرح کے طرز عمل میں مشغول ہونے کے امکانات اسوقت زیادہ تھے جب وہ مایوسی، بے صبری اور عدم اطمینان محسوس کر رہے تھے جبکہ آرام دہ کیفیت میں ان میں ایسا کرنے کی خواہش کم پیدا ہوئی۔تحقیق کے مرکزی تفتیش کار کیرن اوکونور نے کہا کہ “ہمیں لگتا ہے کہ جن لوگوں کے طرز عمل میں غیراردای طور پر ناخن کترنا ہے وہ اصل میں کمال پرست ہو سکتے ہیں اس کا مطلب ہے کہ وہ سکون سے نہیں بیٹھ سکتے ہیں اور ایک عام فرد کی رفتار کے مطابق کام انجام دینے کے قابل نہیں ہوتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ جب ایسے لوگ اپنے مقاصد حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہوتے ہیں تو آسانی سے فراغت بے چینی اور عدم اطمینان کا شکار ہو جاتے ہیں۔

مزید پڑھئے:ناپسندیدہ’ نشریات کو بلاک کرنے کی تیاری

“پروفیسر کیرن او کونور کی قیادت میں ہونے والے مطالعے میں 48 افراد پر تجربہ کیا گیا ان میں سے نصف افراد ناخن چبانے اور دیگر دہرائےجانے والی عادتوں کا شکار تھے جبکہ دوسرے گروپ کے افراد اس طرز عمل کے حامل نہیں تھے۔تفتیش کار کی ٹیم نے شرکاءمیں سے ہر ایک فرد کو فراغت، مایوسی، اعصابی تناو¿ اور سکون کے جذبات پیدا کرنے والے چار ڈیزائن شدہ سیشن میں حصہ لینے کو کہا۔ٹیسٹ کے نتائج سے محققین نے دیکھا کہ “ایسے افراد جن میں بار بار کے رویوں کی ہسٹری موجود تھی انھوں نے کنٹرول گروپ کے مقابلے میں فراغت اور مایوسی کے ٹیسٹ کے دوران ناخن کترنے اور جلد یا سر کے بال نوچنے کی زیادہ خواہش محسوس کی۔”محققین نے کہا کہ ہمارے نتائج میں اس طرح کے طرز عمل کو ابھارنے میں فراغت، مایوسی اور بے صبری کا کردار اجاگر ہوا ہے۔انھوں نے مزید کہا کہ اس کا مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ لوگ محض اعصابی عادات کے نتیجے میں ایسا نہیں کرتے ہیں جیسا کہ کچھ لوگ اس کے بارے میں قیاس رکھتے ہیں۔محقق سارہ رابرٹسن نے کہا کہ ناخن کترنے کے رویہ میں ملوث ہونا نروس ہونے کی وجہ سے نہیں ہے۔انھوں نے کہا کہ اگر اگلی بار دوستوں کی محفل میں کوئی آپ سے ناخن چبانے کے بارے میں سوال کرے تو آپ کے لیے یہ کہنا آسان ہو گا کہ اس میں میری غلطی نہیں ہے بلکہ اس بوریت کے قصور وار آپ ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



اواتار مائونٹین


اواتار فلم 2009 ء میں آئی‘ پوری دنیا میں دیکھی…

فورنگ میں ایک رات

ہماری لینڈ لیڈی کے والدین غریب تھے‘ وہ ٹائون…

محمد بوٹا انجم

محمد بوٹا میاں چنوں کے گائوں چک 15 میں پیدا ہوا‘…

فلم میں بھی ہارنے سے انکار

یہ تبلیسی شہر تھا‘ اکتوبر کی 8 تاریخ تھی اور سن…

Pale Blue Dot

کارل ایڈورڈ سیگن (Carl Edward Sagan) خلانورد اور پلانٹری…

نصیب کی مکھی

ٹومی فلیٹ ووڈ (Tommy Fleetwood) دنیا کا مشہور گالفر ہے‘…

8 بجے تک

میرا جم میرے گھر سے پانچ منٹ کی دوری پر ہے‘ میں…

ریو سیکریٹو

دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…