جمعرات‬‮ ، 15 جنوری‬‮ 2026 

سیاستدانوں کا کام عوام کی خدمت کرنا ہے،شاہد آفریدی نے سیاست کرنے کااعتراف کرلیا

datetime 13  اپریل‬‮  2017 |

کراچی(آئی این پی) پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان شاہد آفریدی نے کہا ہے کہ پی سی بی کی عزت درکار نہیں مداحوں کا پیار کافی ہے، پی سی بی کو یاد رکھنا چاہئے کہ کھلاڑیوں کی وجہ سے ہی کرکٹ بورڈ بھی ہے، پی سی بی نے یونس اور مصباح کو آخری سیریز دیکر اچھی روایت قائم کی، پاور ہٹرز کی تلاش کیلئے سندھ میں کیمپ لگاؤں گا، کرکٹ تیز ہو گئی ہے ہمیں وقت کے ساتھ چلنا ہو گا،میرا سیاست میں آنے کا کوئی

ارادہ نہیں سیاستدانوں کا کام عوام کی خدمت کرنا ہے اور میں یہ کام اپنی فاؤنڈیشن کے ذریعے کر رہا ہوں۔کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شاہد آفریدی نے کہا کہ ویسٹ انڈیز کے خلاف ٹیم نے اچھا پرفارم کیا، بہترین کپتانی پر سرفراز احمد کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔انہوں نے کہا کہ میرا سیاست میں آنے کا کوئی ارادہ ہے نہ ہی کسی سیاسی پارٹی سے تعلق ہے، سیاستدانوں کا کام عوام کی خدمت کرنا ہے اور میں یہ کام اپنی فاؤنڈیشن کے ذریعے کر رہا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ کرکٹ تیز ہو گئی ہے ہمیں وقت کے ساتھ چلنا ہو گا، نئے ٹیلنٹ کو آگے لانا چاہیئے، پاور ہٹرز کی تلاش کیلئے سندھ میں کیمپ لگاؤں گا۔الوداعی میچ سے متعلق پوچھے گئے سوال پر شاہد آفریدی نے کہا کہ مجھے پی سی بی کی عزت کی ضرورت نہیں، مداحوں کی جانب سے ملنے والا پیار میرے لئے کافی ہے۔ پی سی بی کو یاد رکھنا چاہئے کہ کھلاڑیوں کی وجہ سے ہی کرکٹ بورڈ بھی ہے ، میں نے کھلاڑیوں کو اچھے انداز میں رخصت کرنے کا ٹرینڈ سیٹ کرنے کی کوشش کی، مصباح اور یونس نے بہترین فیصلہ کیا اور ان کے فیصلے کا احترام کرتا ہوں۔ سینئر کرکٹرز کو اچھے انداز میں رخصت کیا جانا خوش آئند ہے۔ پی سی بی نے یونس اور مصباح کو آخری سیریز دیکر اچھی روایت قائم کی۔ میرے موقع پر پی سی بی نے ایسا نہیں کیا جس کا مجھے افسوس بھی نہیں۔ مجھے نہ کوئی الوداعی میچ چاہیے نہ ہی کوئی

سیریز۔انہوں نے کہا جو پیار ملا عوام سے ملا پی سی بی سے کوئی امید نہیں۔ موجودہ ٹیم کو ماڈرن کرکٹ کھیلنے کے انداز اپنانے ہوں گے۔ کیونکہ بڑی ٹیموں کیخلاف اچھی کپتانی کرنیکی ضرورت ہو گی۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ونڈر بوائے


یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…