بدھ‬‮ ، 23 ستمبر‬‮ 2026 

’’مسلمانان عالم کیلئے عبرت کا مقام ‘‘ ہندو آج کل کشمیر میں مسلمانو ں کی قبور کے ساتھ کیا کام رہے ہیں ؟ جان کرخون کھول اٹھے گا

datetime 10  فروری‬‮  2017 |

جموں(این این آئی)مقبوضہ کشمیر میںہندو انتہا پسندوں نے قابض انتظامیہ کے تعاون سے جموں خطے کے علاقے سامبا میں ایک قبرستان کو کھیل کے میدان میں تبدیل کرنے کے منصوبے کے تحت چالیس سے زائد قبریں مسمار کر دیںجس کے باعث علاقے میں حالات انتہائی کشیدہ ہو گئے ہیں۔ کشمیر میڈیا سروس کے مطابق اقاف اسلامیہ کمیٹی جموںکشمیر کے افسر

راج محمد نے میڈیا کو بتایا کہ قبرستا ن کا یہ قطعہ اراضی اوقات کی ملکیت ہے اور یہاں پر کافی عرصے سے قبرستان قائم ہے لیکن ہندو فرقہ پرست عناصر اس پر قبضہ جماکر اسے کھیل کے میں میدان میں تبدیل کرنا چاہتے ہیں۔ ہندو ئو ں کے اس مذموم اقدام کیخلاف مسلمانوں کے اندر سخت تشویش کی لہر ڈوڈ گئی ہے اور انہوں نے قبروں کی مسماری کیخلاف زبردست احتجاج کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوانتہا پسندوں کو اس مذموم منصوبے میں کٹھ پتلی حکومت کے محکمہ ریونیو اور بلاک ڈویلپمنٹ افسر کی بھر پور سرپرستی حاصل ہے ۔ دریں اثنا کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین سید علی گیلانی نے قبرستان کو کھیل کے میدان میں تبدیل کرنے کے گھنائونے منصوبے اور کم از کم 40قبروں کو منہدم کرنے پر اپنی گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر منصوبے کو فوری طور پر ترک نہیں کیا گیا تو اس کے سنگین نتائج نکلیں گے۔ سید علی گیلانی نے کہا کہ جب سے پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی اور بھارتیہ جنتا پارٹی کی اتحادی کٹھ پتلی حکومت نے اقتدار سنبھالا ہے اس وقت سے جموں خطے کے مسلمانوں کے خلاف ہندوئوں کی معاندانہ سرگرمیوں کا سلسلہ بڑھ گیا ہے اورمساجد اور مقبروں کی اراضیوںپر قبضے کیے جا رہے ہیں۔حریت چیئرمین نے کہا کہ مذموم کارروائیوں کا سلسلہ اگر ترک نہیں کیا گیا تو بھرپور احتجاج کیا جائے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…