پیر‬‮ ، 08 جون‬‮ 2026 

’’مسلمانان عالم کیلئے عبرت کا مقام ‘‘ ہندو آج کل کشمیر میں مسلمانو ں کی قبور کے ساتھ کیا کام رہے ہیں ؟ جان کرخون کھول اٹھے گا

datetime 10  فروری‬‮  2017 |

جموں(این این آئی)مقبوضہ کشمیر میںہندو انتہا پسندوں نے قابض انتظامیہ کے تعاون سے جموں خطے کے علاقے سامبا میں ایک قبرستان کو کھیل کے میدان میں تبدیل کرنے کے منصوبے کے تحت چالیس سے زائد قبریں مسمار کر دیںجس کے باعث علاقے میں حالات انتہائی کشیدہ ہو گئے ہیں۔ کشمیر میڈیا سروس کے مطابق اقاف اسلامیہ کمیٹی جموںکشمیر کے افسر

راج محمد نے میڈیا کو بتایا کہ قبرستا ن کا یہ قطعہ اراضی اوقات کی ملکیت ہے اور یہاں پر کافی عرصے سے قبرستان قائم ہے لیکن ہندو فرقہ پرست عناصر اس پر قبضہ جماکر اسے کھیل کے میں میدان میں تبدیل کرنا چاہتے ہیں۔ ہندو ئو ں کے اس مذموم اقدام کیخلاف مسلمانوں کے اندر سخت تشویش کی لہر ڈوڈ گئی ہے اور انہوں نے قبروں کی مسماری کیخلاف زبردست احتجاج کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوانتہا پسندوں کو اس مذموم منصوبے میں کٹھ پتلی حکومت کے محکمہ ریونیو اور بلاک ڈویلپمنٹ افسر کی بھر پور سرپرستی حاصل ہے ۔ دریں اثنا کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین سید علی گیلانی نے قبرستان کو کھیل کے میدان میں تبدیل کرنے کے گھنائونے منصوبے اور کم از کم 40قبروں کو منہدم کرنے پر اپنی گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر منصوبے کو فوری طور پر ترک نہیں کیا گیا تو اس کے سنگین نتائج نکلیں گے۔ سید علی گیلانی نے کہا کہ جب سے پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی اور بھارتیہ جنتا پارٹی کی اتحادی کٹھ پتلی حکومت نے اقتدار سنبھالا ہے اس وقت سے جموں خطے کے مسلمانوں کے خلاف ہندوئوں کی معاندانہ سرگرمیوں کا سلسلہ بڑھ گیا ہے اورمساجد اور مقبروں کی اراضیوںپر قبضے کیے جا رہے ہیں۔حریت چیئرمین نے کہا کہ مذموم کارروائیوں کا سلسلہ اگر ترک نہیں کیا گیا تو بھرپور احتجاج کیا جائے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



تلوم اور تلوم سے آگے


ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…