جمعرات‬‮ ، 15 جنوری‬‮ 2026 

پاکستانی خاتون قومی شناختی کارڈ بنوانے گئی تو اسے پتہ چلاکہ وہ تو مر چکی ہے ۔۔ کہانی یہاں ختم نہیں ہوئی ، اس کے بعد کیا ہوا ؟ حیران کن انکشافات

datetime 7  جنوری‬‮  2017 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) نادرا کی طرف سے مردہ قرار دی گئی خاتون پانچ سالوں سے دھکے کھانے کے باوجود ملک بھر کے دفتروں میں خود کو زندہ ثابت کرنے میں ناکام ہو گئی، تفصیلات کے مطابق دریاخان کے نواحی علاقہ کہاوڑ کلاں کے رہائشی دو مختلف خاندانوں سے تعلق رکھنے والے غلام شبیر نام کے شہریوں کی بیویوں کے نام بھی اتفاق سے ایک ہی جیسے تھے، جن میں سے ایک خاتون خنائی مائی بیوہ غلام شبیر قوم جکھڑ 10نومبر 2012 کو طبعی طور فوت ہو گئی جس کا اندراج فوتگی یونین کونسل کہاوڑ کلاں میں اس کے بیٹے جہانگیر احمد نے درج کرواتے ہوئے باضابطہ کمپیوٹرائزڈ ڈیتھ سرٹیفکیٹ حاصل کیا، جبکہ متوفیہ کی ہم نام دوسری خاتون خنائی مائی بیوہ غلام شبیر قوم ارائیں نے قومی شناختی کارڈ کی مدت میعاد ختم ہونے پر نئے شناختی کارڈ کیلئے نادرا سنٹر دریا خان سے رجوع کیا، نادرا دفتر نے خنائی مائی کو ٹوکن نمبر 108301043761/52 جاری کیا، مگر بعد ازاں مقررہ وقت پر کارڈ جاری کرنے سے یہ کہہ کر انکار کردیا گیا کہ نادرا ریکارڈ کے مطابق مذکورہ خاتون وفات پاچکی ہے، متاثرہ خاتون کے شوہر نے صورتحال کی تحقیق کی تو معلوم ہوا کہ کہاوڑ کلاں کی رہائشی دوسری خاتون خنائی مائی بیوہ غلام شبیر قوم جکھڑ کو نادرا کی طرف سے جاری کیا گیا شناختی کارڈ اس کی زوجہ کے آئی ڈی نمبر کے مطابق جاری کردیا گیا، جو مذکورہ کی وفات کے اندراج کی صورت میں بلاک کردیا گیا، زندہ خنائی مائی گزشتہ پانچ سال سے نادراکی نااہلی سے کھو جانے والی اپنی قومی شناخت کے حصول کیلئے دربدر کی ٹھوکریں کھارہی ہے، جائیداد کی منتقلی، عمرہ وحج کی ادائیگی کیلئے بیرون ملک سفر سمیت شوہر کی پنشن کے حق سے بھی محرومی نے خاتون کی پریشانیوں میں اضافہ کردیاہے، نادرا کے ہر سطح کے حکام نے زندہ خاتون کواس کے بنیادی آئینی حق کی فراہمی سے مکمل معذوری ظاہر کردی ہے، سیکرٹری یونین کونسل کہاوڑ کلاں بشیر حسین نے تصدیق کرتے ہوئے کہا نادرا اہلکاروں کی نااہلی کے باعث زندہ خاتون کو مردہ قرار دیا جا رہا ہے۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ونڈر بوائے


یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…