اتوار‬‮ ، 09 اگست‬‮ 2026 

لیبیا کے طیارے کو اغواءکرنیوالے ہائی جیکروں کا صرف ا یک شخص کی رہائی کا مطالبہ

datetime 23  دسمبر‬‮  2016 |

والیٹا(آئی این پی)لیبیاکی افریقین ایئرلائن کے طیارے کوغواکرنے والے ہائی جیکرزنے اپنے مطالبات سکیورٹی حکام کے سامنے رکھ دیے ہیں،ہائی جیکرزنے کرنل قذافی کے بیٹے کی رہائی کامطالبہ کردیاہے،ہائی جیکرزنے مسافروں‌کورہاکردیاجبکہ مطالبات پورے ہونے تک عملے کواپنی تحویل میں‌رکھنے کاپیغام بھی دے دیاہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق لیبیاکی افریقین ایئرلائن کاطیارہ سبہاسے طرابلس جاتے ہوئے ہائی جیک کرلیاگیا۔طیارے کو2ہائی جیکرزنے اغوا کیا۔اغواکاروں نے طیارے کومالٹاکے ایئرپورٹ‌پرلینڈکروایا۔جہاں پرملکی و غیرملکی پروازوں‌کاشیڈول متاثرہونے کے ساتھ ہلچل مچ گئی۔کئی گھنٹوں بعدبھی طیارے کے انجن کوبندنہیں‌کیاگیااور نہ ہی کسی مسافرکوطیارے سے باہرآنے دیاگیا۔ہائی جیکرزنے طیارے کوہینڈگرنیڈبم سے اڑانے کی دھمکی بھی دی۔روسی خبرایجنسی کاکہناہے کہ ہائی جیکرزخودکوسابق صدرلیبیا کرنل قذافی کا حامی بتایا اور کرنل قذافی کے بیٹے کی رہائی کامطالبہ کرتے ہوئے مسافروں کورہاکردیاجبکہ عملے کے لوگ تاحال ہائی جیکرزکی تحویل میں‌ہیں۔

لیبیا کے ہائی جیک طیارے میں عملے سمیت118مسافرسوارتھے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق مالٹا میں طیارے کوہائی جیک کی اطلاع ملتے ہی سکیورٹی فورسزنے ہائی جیک طیارے کے قریب پوزیشنیں سنبھال لیں۔غیرملکی میڈیاکے مطابق طیارے میں سوارمسافروں میں 82مرد،28خواتین اور ایک بچہ شامل ہے۔جبکہ طیارے میں عملے کے 7افرادبھی سوارہیں۔ مزیدبرآں وزیراعظم مالٹانے بتایاکہ ہائی جیک ہونیوالے لیبیاکے طیارے میں 111مسافرسوارہیں۔طیارے میں سوارمسافروں میں 82مرد،28 خواتین اور ایک بچہ شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایئرپورٹ‌پرآنیوالی پروازوں‌کارخ اٹلی کے جزیرے کی جانب موڑاجارہاہے۔

سکیورٹی فورسزکے اسپشل دستے ایئرپورٹ‌ پرمربوط آپریشن میں مصروف ہیں۔وزیراعظم مالٹانے مزیدبتایا کہ لیبیا کاافریقی ایئرلائن کاطیارہ سبہاسے طرابلس جارہاتھا۔ہائی جیکرزنے طیارے کارخ‌موڑکرمالٹاایئرپورٹ پرلینڈکوادیاہے۔واضح رہے ہائی جیکرزنے طیارے کے مسافروں‌کوچھوڑدیاہے لیکن اپنے مطالبات پورے ہونے تک طیارے کوعملے کوتحویل میں‌رکھنے کاپیغام دیاہے۔ہائی جیکرزنے سکیورٹی حکام سے لیبیاکے کرنل قذافی کے بیٹے کی رہائی کامطالبہ کیاہے۔تاہم ہائی جیکرزکے ساتھ مالٹا کی مذاکراتی ٹیم بھی مذاکرات کررہی ہے

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)


میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…