ہفتہ‬‮ ، 12 ستمبر‬‮ 2026 

پڑھیں صبح صبح خوشی کی خبر

datetime 5  دسمبر‬‮  2016 |

اسلام آباد (آن لائن) وزیر اعظم نواز شریف دیامیر بھاشا ڈیم کے لئے فنانسنگ پلان کی منظوری دیتے ہوئے مالیاتی تجاویز کو جلد حتمی شکل دینے کی ہدایت کی ہے اور کہا ہے کہ آئندہ سال کے آخر تک ڈیم کی تعمیر کا کام شروع کیا جائے ۔پیر کے روز وزیر اعظم ہاؤس میں وزیر اعظم نواز شریف کی زیر صدارت دیامیر بھاشا ڈیم کے لئے فناسنگ پلان کا اجلاس ہوا اجلاس میں وزیر اعظم نواز شریف نے دیامیر بھاشا ڈیم کے لئے فنانسنگ پلان کی اصولی منظوری دے دی ۔ سیکرٹری پانی و بجلی نے دیامیر بھاشا ڈیم کے لئے فنانسنگ پلان پیش کیا اجلاس میں وزارت پانی و بجلی نے دیامیر بھاشا ڈیم کو اپنے وسائل سے مکمل کرنے کی تجویز دی ۔ پی ایس ڈی پی فنڈز اور واپڈا کے وسائل کے ذریعے ڈیم تعمیر کیا جائے گا ۔وزیر اعظم نے سیکرٹری خزانہ کو ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ مالیاتی تجاویز کو جلد حتمی شکل دی جائے اور آئندہ سال کے آخر تک ڈیم کی تعمیر شروع ہو جانی چاہیے، ۔ وزیر اعظم نواز شریف نے کہا کہ دیامیر بھاشا ڈیم کے لئے اراضی کا حصول خوش آئند ہے اراضی کا حصول وزارت پانی و بجلی اور گلگت بلتستان انتظامیہ کی کاوشوں کو سراہا،ا جلاس میں وزیر اعظم کو بریفنگ دی گئی کہ بھاشا ڈیم کی منظوری مشترکہ مفادات کونسل نے 2009 میں دی تھی ملک میں آبی ذخائر کی تعمیر وقت کی ضرورت ہے آبی ذخائر سے ملک میں پانی کی قلت کے چیلنج سے نمٹنے میں مدد ملے گی ۔ دیامیر بھاشا ڈیم میں 8.7 ملین ایکڑ فٹ پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش ہو گی۔ ڈیم سے 4500 میگاواٹ ستی اور ماحول دوست مہیا ہو گی، دیا میر بھاشا ڈیم مکمل طور پر ملکی وسال سے تعمیر کیا جائے گا ،اس منصوبے کے لیے واپڈا وسائل پیدا کرے گا جبکہ بجلی کی پیدا وار کے لیے باقی فنانسنگ کا بندوبست کمرشل بنیادوں پر ہو گا جس کے لیے وزارت پانی و بجلی یاتو واپڈا سے پیسے لے گی یا پراجیکٹ کی لیزنگ سے فنڈز سے رقوم حاصل کی جائیگی ۔ وزیراعظم نواز شریف نے سیکرٹری پانی و بجلی ،منصوبہ بندی اور خزانہ کو سفارشات مرتب کرنے کی ہدایت تاکہ دیا میر بھاشا ڈیم منصوبے کو 2017میں مکمل کیا جا سکے ۔دیا میر بھا شا ڈیم 2009میں
منظور ہوا تھا جو کہ 45سو میگا واٹس بجلی فراہم کرے گا ۔۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)


ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…