جمعہ‬‮ ، 11 ستمبر‬‮ 2026 

ہر سات سیکنڈ میں 15سال سے کم عمر بچی ۔۔۔بین الاقوامی ادارے کی رپورٹ نے تہلکہ مچا دیا ، پاکستان کا نام بھی شامل

datetime 24  اکتوبر‬‮  2016 |

لاہور( این این آئی)بچوں کے لیے کام کرنے والے بین الاقوامی امدادی ادارے نے اپنی حالیہ رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ ہر7سیکنڈ میں 15 سال سے کم عمر ایک بچی کی شادی کر دی جاتی ہے ، افغانستان، یمن، بھارت، پاکستان اور صومالیہ سمیت کئی ممالک میں 10 سال تک کی عمر کی لڑکیوں کی اکثر ان کی عمر سے کئی سال بڑے عمر کے مردوں سے شادیاں ہوجاتی ہیں۔یہ رپورٹ’’ سیو دی چلڈرن ‘‘ کی جانب سے رواں ماہ لڑکیوں کے عالمی دن کے حوالے سے جاری کی گئی تھی ۔رپورٹ میں لڑکیوں کی شادی کے حوالے سے دنیا کے مختلف ممالک کی درجہ بندی کی گئی ہے۔ یہ درجہ بندی لڑکیوں کی کم عمری میں شادی، سکول جانے، کم عمری میں حمل، زچگی میں اموات اور پارلیمنٹ میں خواتین کی تعداد کے مطابق کی گئی ہے۔اس درجہ بندی میں نائیجیریا، چاڈ، جمہوریہ وسطی افریقہ، مالی اور صومالیہ سب سے نیچے ہیں جبکہ 144 ممالک کی فہرست میں پاکستان، بھارت اور افغانستان بالترتیب 88ویں، 90 اور 121ویں نمبر پر ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ تنازعات، غربت اور انسانی بحران لڑکیوں کی کم عمری کی شادی کے بنیادی عوامل ہیں۔کم عمری میں شادی سے لڑکیاں ناصرف تعلیم اور مواقع حاصل کرنے سے محروم رہ جاتی ہیں، بلکہ کم عمری میں حمل اور زچگی سے ان کی زندگی کو بھی خطرہ لاحق ہوجاتا ہے۔رپورٹ میں کم عمری میں شادی کے سنگین نتائج اور نقصانات کے حوالے سے چند مثالیں بھی پیش کی گئی ہیں۔اقوام متحدہ کے ادارے یونیسف نے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ کم عمری میں شادی کے واقعات جو آج تقریباً 70 کروڑ ہیں ان کی تعداد2030 تک بڑھ کر تقریباً 95 کروڑ ہوجائے گی۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)


ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…