اسلام آباد(نیوز ڈیسک) پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کے سربراہ مفتی سعید نے کئی ماہ کے تعطل کے بعد مقبوضہ کشمیر کے 12ویں کٹھ پتلی وزیراعلیٰ کا حلف اٹھا لیاجبکہ 10 رکنی کابینہ نے بھی حلف لے لیا جس میں سے 5 وزرا کا تعلق بی جے پی سے ہے ،تقرےب مےں بھارتی وزےراعظم نرےندر مودی بھی خصوصی طور پر موجود تھے۔اتوار کوبھارتی میڈیا کے مطابق مقبوضہ وادی کے نئے کٹھ پتلی وزیراعلیٰ کی تقریب حلف برداری سری نگر کےجنرل زورآور سنگھ سٹیڈیم کے آڈیٹوریم میں منعقد ہوئی، مقبوضہ کشمیر کے گورنر این این وہرہ نے مفتی سعید سے حلف لیا،مفتی سعید کے ساتھ ہی بی جے پی کے رکن اسمبلی نرمل سنگھ نے نائب وزیر اعلی کے عہدے کا حلف اٹھایا۔اس موقعے پر کابینہ کے کئی دیگر ارکان کی حلف برداری بھی ہوئی۔حلف برداری کے موقع پر بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے علاوہ بی جے پی صدر امت شاہ، سینیئر لیڈر لال کرشن اڈوانی اور اس اتحاد میں اہم کردار ادا کرنے والے رام مادھو بھی موجود تھے۔ 10 رکنی کابینہ میں سے 5 وزرا کا تعلق بی جے پی سے ہے۔وزیر بننے کے بعد سابق علیحدگی پسند رہنما سجاد لون نے کہا کہ ’جموں و کشمیر کے لیے یہ تاریخی دن ہے۔ یہ ریاست کے لیے ایک فیصلہ کن موڑ ہے، اس اتحاد سے ریاست آگے بڑھے گا۔انھوں نے پی ڈی پی اور بی جے پی کے بیچ کے نظریاتی فرق کو تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ دونوں جماعتوں کے درمیان کسی طرح کا ٹکراو¿ نہیں ہوگا۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ ’ایک ہی بار میں سب کچھ درست کر دینے کی قدرت تو صرف اللہ کے پاس ہی ہے۔‘سجاد لون سابق علیحدگی پسند ہیں۔ انھوں نے امید ظاہر کی کہ دوسرے علیحدگی پسند بھی ان کی طرح جمہوری طریقے سے ریاست کے مسائل کا حل نکالنے کی کوشش کریں گے۔پی ڈی پی کے نعیم اختر نے کہا ہے کہ ’یہ اتحاد مودی کی ترقی کے دعووں کے دیکھتے ہوئے کیا گیا ہے اور اس سے ریاست میں ترقی کا نیا راستہ کھل جائے گا۔جموں و کشمیر کے سابق وزیر اعلی اور نیشنل کانفرنس کے رہنما عمر عبداللہ نے اس موقعے پر اپنے مخالفین پی ڈی پی کو طنز کا نشانہ بنایا۔انھوں نے ٹویٹ کے ذریعے پی ڈی پی پر تنقید کی۔ انھوں نے لکھاکہ جموں و کشمیر کے آئین کو منسوخ کرنے کا مطالبہ شیاما پرساد مکھرجی نے کیا تھا، آج پی ڈی پی انھی کی پارٹی کے ساتھ مل کر حکومت بنا رہی ہے۔ یہ عجیب تضاد ہے!‘بھارتیہ جنتا پارٹی کے لیڈر سمبت پاتر نے کہا کہ ’یہ سیاسی اتحاد ایک نئی ابتدا ہے۔ یہ وزیر اعظم کی ترقی کو نافذ کرنے کی کوشش ہے اور اس سے جموں کشمیر کو فائدہ ہو گا۔واضح رہے کہ گزشتہ برس مقبوضہ وادی میں ہونے والے نام نہاد ریاستی انتخابات میں پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی اور بی جے پی بڑی پارٹیاں بن کر ابھریں تھیں تاہم کسی بھی جماعت کے پاس تنہا حکومت بنانے کے لئے مطلوبہ نشستیں نہیں تھیں۔ جس کے بعد دونوں جماعتوں نے اتحاد کرکے مخلوط حکومت قائم کی ہے۔
مقبوضہ کشمیرمیں پی ڈی پی اور بی جے پی نے اتحادی حکومت بنالی
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)
-
ہونڈا CD 70 خریدنے والوں کے لیے اہم خبر
-
حج 2027 پیکیجز، پہلی قسط اور اخراجات کی تفصیلات جاری
-
اسکول ہفتے میں 6 روز کھلیں گے ،نوٹیفکیشن جاری
-
متحدہ عرب امارات نے پاکستانیوں کو ویزے جاری کرنا شروع کردیے
-
اوم پوری کی اہلیہ نے شوہر کے ملازمہ سے تعلقات کا انکشاف کردیا
-
پی ٹی آئی رہنما کے قتل میں بڑی پیشرفت، قتل کے ماسٹر مائنڈ کا نام اور وجہ سامنے آگئی
-
واٹس ایپ میں ایک نئی دلچسپ اپ ڈیٹ کر دی گئی
-
سعودی عرب جانے والے پاکستانیوں کے لیے بڑا اعلان
-
پوتے نے بیگ میں توپ کے گولے رکھ دئیے، دادی ایئرپورٹ پر پکڑی گئیں
-
غلط ای چالان منسوخ کرانے کا آن لائن طریقہ پنجاب حکومت نے بتا دیا
-
اگر مزید جہازنہیں بھیجاگیا تو اسرائیل کے بجائے امریکی دفاع کے انتخاب پر مجبور ہوں گے، امریکی جنرل
-
پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں کمی کردی گئی
-
پی ٹی آئی رہنما عبداللہ طاہر کے قتل میں ملوث ملزم کوگی بٹ کا مبینہ وائس نوٹ سامنے آگیا



















































