جمعرات‬‮ ، 15 جنوری‬‮ 2026 

مقبوضہ کشمیرمیں کیا ہورہاہے؟واشنگٹن ٹائمزکے شرمناک انکشافات

datetime 11  اکتوبر‬‮  2016 |

واشنگٹن(این این آئی)امریکی میڈیا نے کہاہے کہ بھارتی فوج منظم طریقے سے کشمیریوں کو سزا دے رہی ہے۔واشنگٹن ٹائمز کے مطابق یہ بھارتی تاریخ کا سب سے بڑا کریک ڈاؤن ہے جس میں اب تک سینکڑوں لوگ شہید اور ہزاروں زخمی ہوچکے ہیں ٗبھارتی فوج منظم طریقے سے عوام کو سزا دے رہی ہے ٗ کسی اور ملک میں ایسا ہوتا تو عالمی برادری کبھی بھی چپ نہ رہتی تاہم کشمیر میں ہونے والے ظلم وستم پر عالمی برادری خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔واضح رہے کہ بھارتی فوج کے ہاتھوں تحریک آزادی کے نوجوان کمانڈر برہان مظفر وانی کی شہادت کے بعد سے مقبوضہ کشمیر میں احتجاج کا سلسلہ جاری ہے جس میں اب تک 110 کشمیری شہید اور ہزاروں زخمی ہو چکے ہیں۔

مقبوضہ کشمیر میں جموں کی کوٹ بھلوال جیل میں میں کالے قانون پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت غیر قانونی طور پرنظر بند کشمیری نوجوان کی والدہ اپنے بیٹے کے راہ تکتے تکتے اس دنیا سے رخصت ہوگئی۔ کشمیر میڈیا سروس کے مطابق سرینگر کے صورہ میڈیکل انسٹیٹیوٹ میں زیر علاج ہاجرہ نے گزشتہ روز بستر مرگ پرآخری سانس لی ۔ہاجرہ آخری وقت تک اپنے بیٹے کا انتظار کرتی رہی تاہم کوٹ بھلوال جیل میں نظربند بیروہ کے محمد شفیع وانی کو اپنی علیل والدہ کا آخری دیدار کرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ یا د رہے موجودہ انتفادہ میں بھارتی پولیس نے محمد شفیع وانی کوگزشتہ ماہ کی7تاریخ کو گرفتار کرکے کالے قانون پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت جموں کی کوٹ بھلوال جیل میں منتقل کردیا تھا۔بیٹے کی گرفتاری کے دو روز بعد ہاجرہ کو صورہ ہسپتال میں میں داخل کرایا گیا جہاں وہ ایک ماہ تک زیر علاج رہنے کے بعد وفات پاگئی۔محمد شفیع پیشے سے ایک مزدور تھا اور اپنے کنبے کا واحد کفیل تھا۔مقامی لوگوں نے میڈیا کے نمائندوں کو بتایا کہ بھارتی پولیس نے محمد شفیع کو جھوٹے الزما ت میں ملوث کر کے بلا جواز طور پر گرفتار کرکے کالے قانون پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت جیل میں نظر بند کررکھا ہے ۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ونڈر بوائے


یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…