منگل‬‮ ، 31 مارچ‬‮ 2026 

’’گاندھی کے مجسمے کو فوری گرا دیا جائے‘‘ حکم جاری ہو گیا،،بھارت میں ہلچل!!

datetime 22  ستمبر‬‮  2016 |

اکارا (آئی این پی ) گھانا میں گاندھی کے مجسمے کو ہٹانے کیلئے مہم عرج پر آ گئی۔ افریقی رہنما نیلسن منڈیلا کا کہنا تھا کہ مہاتما گاندھی کی تعلیمات جنوبی افریقہ سے نسل پرستانہ نظام کے خاتمے میں مددگار رہیں تھیں لیکن اس کے باوجود سبھی افریقی رہنما گاندھی شخصیت سے جو انڈیا کے بابائے قوم کے نام سے معروف ہیں متاثر نہیں ہیں۔ گھانا میں یونیورسٹی کے ایک پروفیسر نے موہن داس کرمچندگاندھی کے خلاف ایک آن لائن مہم شروع کی جس کی ایک ہزار سے زیادہ افراد نے حمایت کی۔ اس میں اکارا میں یونیورسٹی کیمپس میں نصب گاندھی کے ایک مجسمے کو ہٹانے کا مطالبہ کیا گیا، مطالبے میں کہا گیا ہے کہ گاندھی مجسمے کو فوری طور پر گرایا جائے۔ ان ماہرین تعلیم کا کہنا ہے کہ گاندھی نے گرچہ عدم تشدد کے فلسفے پر عمل پیرا ہوکر ہندوستان میں آزادی کی مہم چلائی تھی اور کامیابی حاصل کی لیکن ’نسل پرستی بھی ان کی شناخت‘ تھی۔ اس آن لائن عرضی میں گاندھی جی کی بعض تحریروں سے ایسے اقتباسات کا حوالہ دیا گیا ہے جس میں انھوں نے افریقی نسل کے لوگوں کو بیان کرنے کے لیے ’وحشی یا پھر مقامی افریقی اور کافر‘ جیسے الفاظ سے کا استعمال کیا ہے۔ اس میں گاندھی کے اس خط کی بھی مثال دی گئی ہے جو انھوں نے 1893 میں اس وقت کی جنوبی افریقہ کی پارلیمان کو لکھا تھا۔ اس میں گاندھی نے لکھا تھا کہ ’ کالونی میں اب یہ عام خیال غالب ہوتا نظر آتا ہے کہ وحشیوں یا پھر مقامی افریقی لوگوں کے مقابلے میں انڈین تھوڑا بہتر ہوتے ہیں۔گاندھی کے مجسمے کو انڈیا نے گھانا کو بطور تحفہ پیش کیا تھا اور گذشتہ جون میں جب بھارتی صدر پرنب مکھرجی نے اکارا کا دورہ کیا تو اس کی نقاب کشائی کی گئی تھی۔ اس کی مخالفت تو فورا ہی شروع ہوگئی تھی۔ پروفیسر نے جن جذبات کا اظہار کیا تھا اس کی حمایت کرتے ہوئے گھانا کے بعض لوگوں نے’گاندھی مسٹ کم ڈاؤن‘ کا ہیش ٹیگ استعمال کیا۔مطالبے کے بعد انتظامیہ نے فیصلہ کیا ہے کہ گاندھی کے مجسمے کو گرادیا جائے۔



کالم



ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا


پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…