جمعہ‬‮ ، 30 جنوری‬‮ 2026 

ایم کیو ایم بانی کیخلاف شہر قائد میں ایک دفعہ پھر بڑا اقدام اٹھا لیا گیا

datetime 7  ستمبر‬‮  2016 |

کراچی(این این آئی)شہر قائد میں گزشتہ روز جو قائد تحریک کا غدار ہے وہ موت کا حقدار ہے کے بینرز کے بعد اب جو ملک کا غدار ہے وہ موت کا حق دار ہے کے بینرز آویزاں کئے گئے ہیں، گلستان جوہر میں نامعلوم افرد نے مصطفی کمال کی تصاویر اور بینرز پھاڑ دئیے۔تفصیلات کے مطابق کراچی کے مختلف علاقوں میں رات گئے نامعلوم افراد کی جانب سے جو ملک کا غدار ہے وہ موت کا حق دار ہے کے بینرز آویزاں کئے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ شہر کی مصروف ترین شاہراہ شارع فیصل کے مختلف مقامات پر حکومت پاکستان کی تلاش کے بھی بینرز لگائے گئے ہیں۔ ان بینرز پر کسی بھی جماعت کے بجائے منجانب اہلیان پاکستان اور اہلیان کراچی تحریر ہے۔

banners-2
دوسری جانب گلستان جوہر میں نامعلوم افرد نے پاک سرزمین پارٹی کے سربراہ مصطفی کمال کی تصاویر اور بینرز پھاڑ دئیے ہیں ۔ مصطفی کمال کی تصاویر اور بینرز گزشتہ روز گلستان جوہر میں مختلف شاہراہوں پر لگائے گئے تھے ۔واضح رہے کہ گزشتہ دنوں سندھ ہائی کورٹ کے اطراف دن دیہاڑے جو قائد تحریک کا غدار ہے وہ موت کا حقدار ہے کے بینرز کے ساتھ صدر ریگل چوک کے قریب ایم کیوایم پاکستان کے رہنما ڈاکٹرفاروق ستار کے خلاف بھی بینرز لگائے گئے تھے تاہم پولیس نے فوری طور پر کارروائی کرتے ہوئے ان بینرز کو ہٹادیا تھا۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



کاشان میں ایک دن


کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…