ہفتہ‬‮ ، 05 اپریل‬‮ 2025 

وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ ایم کیو ایم کے دفاتر میں گروارہے ہیں، پیپلز پارٹی کے دفتر کے ساتھ کیا ہوا؟حیرت انگیز انکشاف

datetime 29  اگست‬‮  2016
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

اسلام آباد (آئی این پی) وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہاہے کہ ایم کیو ایم کے دفاتر میں گروارہا ہوں اور ایک پیپلز پارٹی کا دفتر بھی گرایا ہے، فاروق ستار نے متحدہ قائد الطاف حسین کی ویٹو پاورختم کرکے اچھا کیا ، شرجیل میمن اور اویس مظفر بہت جلد پاکستان واپس آجائیں گے، عام طور پر آدھا گھنٹہ میٹنگ کرتا ہوں مگر تعلیم کے معاملہ پر 3 گھنٹے تک میٹنگ کی۔ وہ پیر کو نجی ٹی وی کو انٹرویو دے رہے تھے،انہوں نے کہا کہ فاروق ستار نے قائد ایم کیو ایم کی ویٹو پاور ختم کر کے اچھا قدم اٹھایا، ایم کیو ایم کے دفاتر انکی مرضی سے مسمار کیے جارہے ہیں اور ہم نے ایک پیپلز پارٹی کا دفتر بھی گروایا ہے کیونکہ یہ دفتر قبضہ کی جگہ پر تعمیر کیے گئے تھے، فاروق ستار قائد ایم کیو ایم کی ویٹو پاور ختم نہ کرتے تو ایم کیو ایم کا چلنا مشکل تھا،22 اگست کے واقعے کی تحقیقات ہورہی ہے۔ مراد علی شاہ نے کہا کہ پانچ چھ خواتین کو 22 اگست کو توڑ پھوڑ کرتی نظر آئیں اس پر بھی مزید تحقیقات کر رہے ہیں، بھوک ہڑتال کے دوران ایم کیو ایم کے تحفظات بات چیت سے دورکرنا چاہتے تھے، انہوں نے کہا کہ مکاچوک پر بنا ہوا مکا لیاقت علی خان سے ہی منسوب نشان ہے اس لئے اسکی شناخت واپس کی ہے۔ وزیر اعلیٰ سندھ نے کہا کہ نیشنل ایکشن پلان پر تمام صوبوں سے زیادہ کام ہم نے کیا ہے امن و امان پورے ملک کا مسئلہ ہے سب نے ملکر اسکے لیے کام کرنا ہے، ایک سوال کے جواب میں مراد علی شاہ نے کہا کہ اگر ایم کیو ایم میں کوئی دہشتگرد یا جرائم پیشہ افراد ہیں تو انہیں ختم کیا جانا چاہیے،میں کسی سیاسی پارٹی کو ختم کرنے کا بول ہی نہیں سکتا، آصف حسنین نے جو پارٹی بدلی اس کا جواب وہی بہتر دے سکتے ہیں، انہوں نے کہا کہ شرجیل میمن اور اویس مظفرٹپی بہت جلد واپس آجائیں گے، قانون سے اوپر کوئی نہیں ہے اور میں نے خود ممبر رہتے ہوئے الزامات کا سامنا کیا ہے، میں نے وزیر صحت اور وزیر تعلیم منجھے ہوئے سیاستدانوں کو بنایا ہے ، عام طور پر آدھے گھنٹے کی میٹنگ کرتا ہوں جبکہ تعلیم کے معاملے پر 3 گھنٹے میٹنگ کی، اگر ہم نے کام کرکے نہیں دکھایا تو مخالفین کا سامنا کرنا زیادہ مشکل ہوگا اور انشاء اللہ ہمارا کام آپکو نظر آئے گا۔وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے کہا کہ سی پیک میں صوبہ سندھ کے منصوبوں کو نظر انداز کیا جا رہا ہے ۔ توانائی کے بحران کا حل سندھ میں ہے۔ کابینہ کی انرجی کمیٹی میں صرف ایک صوبے کا چیف منسٹر بلایا جاتا ہے ۔ ( ح ب)

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…