جمعہ‬‮ ، 20 مارچ‬‮ 2026 

حکومت قانون میں ترامیم کیوں چاہتی ہے؟ ترامیم کس سے اور کیوں خفیہ رکھی گئیں‘ اہم انکشاف

datetime 18  اگست‬‮  2016 |

لاہور ( این این آئی)پاکستان عوامی تحریک کے قائد ڈاکٹر طاہر القادری نے کہا ہے کہ شریف برادران نے استغاثہ کی سماعت کاقانونی اختیار ججز سے چھین کر پولیس کو دینے کیلئے ضابطہ فوجداری قانون میں ترمیم کا تیار کیا گیا ڈرافٹ تیار کر کے اسلام آباد بھجوا دیا ہے جسے اسمبلی کے آئندہ اجلاس میں سادہ اکثریت سے منظور کروایا جائیگا ،یہ ترمیم قصاص سے بچنے اور سانحہ ماڈل ٹاؤن استغاثہ کیس کی انسداد دہشت گردی کی عدالت میں جاری سماعت کو رکوانے کیلئے کی جارہی ہے،پولیس اور حکومت کے ظلم کا شکار مظلوم شہریوں سے عدالت سے انصاف مانگنے کا حق ختم کیا جارہا ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے اپنی رہائش گاہ پر میڈیا کے نمائندوں اور کور کمیٹی کے ممبران سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہا کہ پورے ملک پر لاگو کیے جانے والے اس نئے ترمیمی قانون پر سندھ، خیبرپختونخوا ،بلوچستان کی اسمبلیوں اور وکلاء کو لا علم رکھاجارہا ہے۔صوبائی حکومتیں ،سیاسی جماعتیں اور وکلاء انصاف کے اس قتل عام کا نوٹس لیں۔ انہوں نے کہا کہ قوانین ملک و قوم کے وسیع تر مفاد میں بنتے ہیں افراد کے تحفظ کیلئے نہیں مگر دھن ،دھونس اور دھاندلی کے نتیجے میں برسراقتدار آنے والے قاتل حکمران اپنے تحفظ کیلئے قوانین بدل رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ فوجداری قانون میں ترمیم لانے کا یہ ڈارفٹ پنجاب اور وفاق کی حکومت نے مل کر تیار کیا ہے جس کا مقصد سانحہ ماڈل ٹاؤن کے قصاص سے بچنا ہے۔انہوں نے کہا کہ چند روزقبل اس قسم کی قانون سازی پر غور و خوض کیے جانے سے متعلق پریس کانفرنس کر کے نشاندہی کی تھی جس کی حکمرانوں کو تردید کرنے کی جرأت نہیں ہوئی اب اس ترمیم کو عملی شکل دینے کیلئے منصوبہ کے بارے قوم کو پیشگی آگاہ کررہے ہیں ۔ڈاکٹر طاہر القادری نے کہا کہ ضابطہ فوجداری میں ترمیم کی منظوری کے بعد ججز کا کسی بھی پرائیویٹ کمپلینٹ کی سماعت کا اختیار ختم ہو جائیگا اور پولیس اور حکمرانوں کے ظلم کا شکار کوئی بھی شہری جب عدالت سے رجوع کریگا تو پراسیکیوٹر ز کی طرف سے شکایت کنندہ کے متعلق اختلافی نوٹ دئیے جانے کی صورت میں جج کا سماعت کا قانونی اختیار ختم ہو جائیگااور کیس دوبارہ اسی ضلع کی پولیس کے پاس چلاجائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس سے پہلے ایف آئی آر کے اندراج اور تفتیش کا حق بھی حکومت کے پاس ہے اوراب پولیس کی زیادتی کے خلاف شہری براہ راست عدالت سے رجوع نہیں کر سکے گا یہ انصاف کے مسلمہ اصولوں اور قوانین کے خلاف ہے اور اس طرز عمل سے سیاسی مخالفین کیلئے انصاف حاصل کرنا دور کی بات سانس لینا بھی دوبھر ہو جائیگا۔انہوں نے کہا کہ یہ ایک انتہائی خطرناک اور مفاد عامہ کیخلاف قانون سازی ہے ،جس کے بھیانک نتائج برآمد ہوں گے۔اس ترمیم کے بارے تمام سیاسی جماعتوں اور صوبائی حکومتوں کو پیشگی آگاہ کررہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ سیاسی اور جمہوری حکومتیں عوام کو بلاتاخیر انصاف کی فراہمی کیلئے اقدامات کرتی ہیں مگر موجودہ قاتل اور کرپٹ حکمران صرف اپنے آپ کو بچانے کیلئے قانون بدل رہے ہیں ۔



کالم



مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)


برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…