جمعرات‬‮ ، 25 جون‬‮ 2026 

ایان علی کے وکیل نے وزیراعظم نوازشریف کی گرفتاری کا مطالبہ کردیا،عدالت میں حیرت انگیز صورتحال

datetime 26  جولائی  2016 |

اسلام آباد(این این آئی)سپریم کورٹ آف پاکستان نے کسٹم افسر قتل کیس میں ماڈل ایان علی کے وانٹ گرفتاری معطل کرنے کے حکم میں 21 ستمبر تک توسیع کردی ہے۔ منگل کو جسٹس امیر ہانی مسلم کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے کسٹم افسر قتل کیس میں ماڈل ایان علی کے وارنٹ گرفتاری جاری کئے جانے کے خلاف درخواست کی سماعت کی۔سماعت کے دوران ایان علی کے وکیل لطیف کھوسہ نے عدالت کے سامنے دلائل دیتے ہوئے کہاکہ حکومت ایان علی کے خلاف مختلف حربے استعمال کررہی ہے اور حکومت ہی کے احکامات پر ان کی مؤکلہ کا نام ای سی ایل میں شامل کیا گیا۔ مقتول انسپکٹر کسٹم اعجاز چوہدری کے قتل کے مقدمے میں بحیثیت ملزمہ ان کی مؤکلہ کانام ہی شامل نہیں تھا اور نا ہی ان کی موکلہ اس کیس میں براہ راست نامزد ہے۔ کسٹم افسر کی بیوہ نے فریق بننے کی درخواست دیتے ہوئے ایان پر شریک ملزم کا الزام لگایا تھا اگر صرف نامزد کی وجہ سے کسی کے وارنٹ گرفتاری جاری کئے جاتے ہیں تو وزیر اعظم نواز شریف بھی 14 افراد کے قتل میں نامزد ہیں انہیں کیوں گرفتار نہیں کیا جاتا۔جسٹس امیر ہانی مسلم نے کہا کہ وارنٹ گرفتاری مجسٹریٹ نے جاری کئے ہیں لہذاٰ منسوخی بھی وہی کریں گے وہاں رابطہ کریں۔ جس پر لطیف کھوسہ نے کہا کہ اگر ہم ضمانت لینے وہاں جائیں گے تو ضمانت منسوخ اور وارنٹ بحال ہوجائیں گے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ میری مؤکلہ لاپتہ افراد میں شامل ہوجائے قندیل بلوچ بھی تو قتل ہوگئی ہے ٗ جسٹس امیر ہانی نے کہا کہ ہم آپ کو وقت دیتے ہیں کہ آپ جائیں اور متعلقہ فورم کا ہی استعمال کریں یا پھر ضمانت قبل از گرفتار کروالیں۔جسٹس امیر ہانی نے ریمارکس دیئے کہ سماعت کے دوران بہت سے اہم سوالات سامنے آئے ہیں پراسیکیوٹر جنرل پنجاب ریکارڈ دکھائے کہ قتل کے مقدمات میں ملوث کتنے افراد کے نام ای سی ایل میں شامل ہیں۔ جسٹس امیر ہانی نے پراسیکیوٹر جنرل پنجاب سے استفسار کیا کہ ایک سال تک پولیس نے انسپکٹر اعجاز قتل کیس کی کیا تفتیش کی کوتاہی برتنے والے تفتیشی افسر کے خلاف پنجاب حکومت نے کیا کارروائی کی مناسب ہوگا کہ ایان علی سے متعلق وارنٹ گرفتاری کے معاملے کو ای سی ایل کیس کے ساتھ ہی سنا جائے۔ماڈل ایان علی کے وکیل سردار لطیف کھوسہ نے کہا کہ ایان علی شامل تفتیش ہونے کے لیے تیارہے، سیکرٹری داخلہ اور پنجاب کا وزیرداخلہ ایان علی کو تھانے بلاکر ذلیل کرنا چاہتے ہیں۔ایان علی کے خلاف کوئی شہادت نہیں کہ وہ کسی بھی طرح سے کسٹم انسپکٹر کے قتل میں ملوث ہے، پراسیکیوٹر پنجاب نے عدالت کو بتایا کہ کسٹم انسپکٹر اپنے قانونی فرائض انجام دے رہاتھا، یہ دہشت گردی کا کیس ہے ۔اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے عدالت کو بتایا کہ صائمہ اعجاز کی ایف آئی آر درج ہوچکی ہے ، صائمہ اعجاز نے 2لوگوں کسٹم سپرنٹنڈنٹ ضرغام اور ڈاکٹر ہارون کو نامزد کیا ہے ۔ دونوں ملزمان شامل تفتیش ہوچکے ہیں جسٹس امیر ہانی مسلم نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ایف آئی آر کی تاخیر سے درج ہونے کا ذمہ دار کون ہے ؟ آپ حکومت ہیں، آپ نے جلدایف آئی آر درج نہ کرنے والے کے خلاف کیا ایکشن لیا ؟ آپ کو تو صاف ہاتھوں سے عدالت میں آنا چاہیے تھا۔بعد ازاں عدالت نے ایان علی کے ورانٹ گرفتاری معطل کرنے کے حکم میں 21 ستمبر تک توسیع کرکے پراسیکیوٹر جنرل پنجاب اور تفتیشی افسر کو طلب کرلیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



اواتار مائونٹین


اواتار فلم 2009 ء میں آئی‘ پوری دنیا میں دیکھی…

فورنگ میں ایک رات

ہماری لینڈ لیڈی کے والدین غریب تھے‘ وہ ٹائون…

محمد بوٹا انجم

محمد بوٹا میاں چنوں کے گائوں چک 15 میں پیدا ہوا‘…

فلم میں بھی ہارنے سے انکار

یہ تبلیسی شہر تھا‘ اکتوبر کی 8 تاریخ تھی اور سن…

Pale Blue Dot

کارل ایڈورڈ سیگن (Carl Edward Sagan) خلانورد اور پلانٹری…

نصیب کی مکھی

ٹومی فلیٹ ووڈ (Tommy Fleetwood) دنیا کا مشہور گالفر ہے‘…

8 بجے تک

میرا جم میرے گھر سے پانچ منٹ کی دوری پر ہے‘ میں…

ریو سیکریٹو

دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…