پیر‬‮ ، 07 ستمبر‬‮ 2026 

فیصلہ کن راؤنڈ ،ڈاکٹر طاہر القادری نے حکمت عملی کا اعلان کردیا

datetime 19  جون‬‮  2016 |

لاہور( ا ین این آئی)پاکستان عوامی تحریک کے قائد ڈاکٹر محمد طاہر القادری نے کہا ہے کہ مال روڈ پر عوام کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر ماڈل ٹاؤن کے قاتلوں کے خلاف ریفرنڈم تھا، ظالم سن لیں عوامی تحریک کا کارکن نہ ڈرا ہے نہ جھکا ہے اور نہ تھکا ہے، دھرنا فی الحال ملتوی کیا۔ انصاف نہ ملا تو فیصلہ کن راؤنڈ ہو گا،امید ہے اگلی کال سے پہلے ہی قاتلوں کا قلع قمع ہو جائے گا، ماڈل ٹاؤن میں ظلم کرنے والوں کو عبرتناک سزائیں ملنے سے حکومتی سرپرستی میں ہونے والی غنڈہ گردی اور قتل و غارت گری کے سیاسی کلچر کاہمیشہ ہمیشہ کیلئے خاتمہ ہو گا۔ وہ گزشتہ روز پاکستان عوامی تحریک کے سینئر رہنماؤں سے اپنی رہائش گاہ پر گفتگو کررہے تھے ۔سربراہ عوامی تحریک نے مال روڈ کے کامیاب احتجاجی دھرنے پر عہدیداروں اور کارکنوں کو انتھک محنت کرنے پر مبارکباد دی ۔سربراہ عوامی تحریک نے کہا کہ موجودہ ظالم اور کرپٹ حکمران اپنے انجام کے قریب ہیں انہیں بیساکھیاں دینے کی کوشش کرنے والے بھی عبرتناک انجام سے دو چار ہونگے۔ یہ وقت ذات، جماعت اور اقتدار بچانے کا نہیں ملک بچانے کا ہے۔انہوں نے کہا کہ موجودہ ظالم نظام کے خلاف فیصلہ کن راؤنڈ میں عوامی تحریک کے کارکن اور ان کے قائدین ہمیشہ کی طرح سب سے آگے ہونگے لیکن اس بار پاکستان کے ہر شہری کو ملک بچانے کیلئے اپنا کردار ادا کرنا ہو گا۔عوام اپنا ملک اور اپنے گھر بچانے کیلئے گھروں سے باہرنکلیں۔انہوں نے کہا کہ ان ظالموں نے غریب کے بچے سے تعلیم، صحت کی سہولتیں چھین لیں۔غریب نوجوانوں سے روزگار چھین لیا۔قومی دولت ذاتی تجوریوں میں بھر لی اور بھاری قرضے لے کر من پسند منصوبوں پر خرچ کیے جارہے ہیں جن کا سود آئندہ نسلیں ادا کریں گی۔انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت ہر سال ساڑھے 13 سو ارب اور پنجاب 124ارب روپے سود اور قرضوں کی مد میں ادا کرتی ہے یہ رقم تعلیم ،صحت ،انصاف اور صاف پانی کے مجموعی بجٹ سے کہیں زیادہ ہے۔ ملک 25 ہزار ارب کا مقروض ہو چکا اور مزید قرضے لیے جارہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ جو حکمران اپنے 30سالہ اقتدار میں سرکاری سکولوں کو بنیادی سہولتیں نہ دے سکے ،شہریوں کو پینے کا صاف پانی نہ دے سکے ،مظلوم کو انصاف نہ دے سکے، لوڈشیڈنگ کا خاتمہ نہ کر سکے انہیں مزید مسلط رہنے کا کوئی قانونی اور اخلاقی حق حاصل نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ جتنا جلد ممکن ہو سکے پانامہ کے چوروں سے جان چھڑوا لی جائے ورنہ نقصان کا ازالہ ناممکن ہو جائے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)


ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…