پیر‬‮ ، 07 ستمبر‬‮ 2026 

روٹی کپڑا مکان والی پالیسی بدل گئی یا پیپلزپارٹی کی موجودہ قیادت کی حیرت انگیزحکمت عملی سامنے آگئی

datetime 12  جون‬‮  2016 |

کراچی (این این آئی) روٹی کپڑا مکان والی پالیسی بدل گئی یا پیپلزپارٹی کی موجودہ قیادت کی حکمت عملی کچھ اورہوگئی ، سندھ بجٹ میں 14784 نئی اسامیوں کے لیے 15 ارب ،بہترکروڑ روپے مختص کردیے گئے اور حکومت سندھ نے اپنے ہی دورمیں بھرتی کردہ 26ہزار سرکاری ملازمین کو نئے مالی سال کے بجٹ میں بھی نظراندازکردیا ۔ ایک لاکھ سے زائد کنٹریکٹ اورعارضی ملازمین کومستقل کرنے کا بھی بجٹ میں اعلان ہوا نہ فنڈزمختص کیے گئے۔ پیپلزپارٹی کی سابقہ حکومت نے اپنے د ورحکومت میں بھرتی کردہ چھبیس ہزارسرکاری ملازمین کے لیے نئے مالی سال دوہزارسولہ اورسترہ کے بجٹ میں ایک پائی بھی مختص نہیں کی البتہ سندھ بجٹ میں پچاس ہزارملازمتیں دینے کا جو اعلان وزیرخزانہ مراد علی شاہ نے بجٹ تقریرمیں کیا ہے اس میں چودہ ہزار،سات سو،چوراسی اسامیاں ایسی ہیں جو مختلف محکموں میں نئی پیدا کی گئی ہیں اوران کے لیے سندھ بجٹ میں پندرہ ارب ،بہترکروڑروپے مختص کیے گئے ہیں ۔ پیپلزپارٹی کی پچھلی حکومت نے محکمہ بلدیات ،تعلیم اورصحت میں اخبارات میں اشتہارات کے بعد چھبیس ہزارسے زائد ملازمین بھرتی کیے ۔محکمہ بلدیات کے تیرہ ہزار،تعلیم کے سات ہزاراورمحکمہ صحت کے چھ ہزارملازمین کو دوہزاربارہ سے تنخواہیں نہیں ملیں ۔ ان ملازمین کو سابق وزیربلدیات آغاسراج درانی،شرجیل میمن ، سابق وزیرتعلیم پیرمظہرالحق ، سابق وزیر صحت ڈاکٹرصغیراحمد کے دورمیں بھرتی کیا گیا تھا ۔ وزیراعلی سندھ کی انشپیکشن ٹیم اورحکومت سندھ کی ایک تحقیقاتی ٹیم سے تحقیقات کرائے جانے کے بعد بھی حکومت سندھ سابقہ دورمیں بھرتی کیے گئے ملازمین کے مستقبل کا کوئی فیصلہ نہیں کرسکی۔ پیپلزپارٹی کے ذرائع کا کہنا ہے کہ پارٹی کی ایک طاقتورخاتون رہنماء کے کہنے پرملازمین کی تنخواہیں روکی گئیں اورگذشتہ تین برس سے ملازمین تنخواہوں کے لیے دربدرہیں۔ محکمہ خزانہ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ پیپلزپارٹی کی اعلی قیادت نے ملازمین کا مسئلہ حل کرنے کی اجازت نہیں دی اس لیے نئے بجٹ میں بھی ملازمین کے لیے رقم مختص نہیں کی گئی ہے۔ پیپلزپارٹی کی اعلی قیادت سے اجازت نہ ملنے پربجٹ میں رقم مختص کرنے اور تنخواہیں جاری کرنے کا تاحال کوئی فیصلہ نہیں کیا جاسکا ۔دوسری جانب دوہزارتیرہ میں حکومت سندھ نے صوبے کے ایک لاکھ سے زائد عارضی اورکنٹریکٹ پربھرتی کیے گئے ملازمین کومستقل کرنے کے لیے سندھ اسمبلی سے بل منظورکرایا مگران کی مستقلی کا سندھ حکومت کے نویں بجٹ میں بھی کوئی فیصلہ نہیں ہوسکا ہے ۔محکمہ خزانہ کے مطابق ملازمین کومستقل کرنے کا معاملہ وزیراعلی ہاؤس میں منظوری کا منتظرہے منظوری ملنے کے بعد ہی ملازمین کومستقل کیے جانے اوران کی تنخواہوں اورمراعات سے متعلق بجٹ مختص کیا جائے گا جبکہ وزیراعلی ہاؤس کے ذرائع کا کہنا ہے کہ عارضی اورکنٹڑیکٹ ملازمین کومستقل کرنے کا حتمی فیصلہ پیپلزپارٹی کی قیادت نے کرنا ہے ۔ نئے مالی سال دوہزارسولہ اورسترہ کے بجٹ میں چودہ ہزارسے زائد نئی اسامیاں تخلیق کی گئی ہیں اوراس مقصد کے لیے بجٹ میں پندرہ ارب بہترکروڑروپے کی خطیررقم بھی مختص کردی گئی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)


ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…