کراچی (این این آئی) روٹی کپڑا مکان والی پالیسی بدل گئی یا پیپلزپارٹی کی موجودہ قیادت کی حکمت عملی کچھ اورہوگئی ، سندھ بجٹ میں 14784 نئی اسامیوں کے لیے 15 ارب ،بہترکروڑ روپے مختص کردیے گئے اور حکومت سندھ نے اپنے ہی دورمیں بھرتی کردہ 26ہزار سرکاری ملازمین کو نئے مالی سال کے بجٹ میں بھی نظراندازکردیا ۔ ایک لاکھ سے زائد کنٹریکٹ اورعارضی ملازمین کومستقل کرنے کا بھی بجٹ میں اعلان ہوا نہ فنڈزمختص کیے گئے۔ پیپلزپارٹی کی سابقہ حکومت نے اپنے د ورحکومت میں بھرتی کردہ چھبیس ہزارسرکاری ملازمین کے لیے نئے مالی سال دوہزارسولہ اورسترہ کے بجٹ میں ایک پائی بھی مختص نہیں کی البتہ سندھ بجٹ میں پچاس ہزارملازمتیں دینے کا جو اعلان وزیرخزانہ مراد علی شاہ نے بجٹ تقریرمیں کیا ہے اس میں چودہ ہزار،سات سو،چوراسی اسامیاں ایسی ہیں جو مختلف محکموں میں نئی پیدا کی گئی ہیں اوران کے لیے سندھ بجٹ میں پندرہ ارب ،بہترکروڑروپے مختص کیے گئے ہیں ۔ پیپلزپارٹی کی پچھلی حکومت نے محکمہ بلدیات ،تعلیم اورصحت میں اخبارات میں اشتہارات کے بعد چھبیس ہزارسے زائد ملازمین بھرتی کیے ۔محکمہ بلدیات کے تیرہ ہزار،تعلیم کے سات ہزاراورمحکمہ صحت کے چھ ہزارملازمین کو دوہزاربارہ سے تنخواہیں نہیں ملیں ۔ ان ملازمین کو سابق وزیربلدیات آغاسراج درانی،شرجیل میمن ، سابق وزیرتعلیم پیرمظہرالحق ، سابق وزیر صحت ڈاکٹرصغیراحمد کے دورمیں بھرتی کیا گیا تھا ۔ وزیراعلی سندھ کی انشپیکشن ٹیم اورحکومت سندھ کی ایک تحقیقاتی ٹیم سے تحقیقات کرائے جانے کے بعد بھی حکومت سندھ سابقہ دورمیں بھرتی کیے گئے ملازمین کے مستقبل کا کوئی فیصلہ نہیں کرسکی۔ پیپلزپارٹی کے ذرائع کا کہنا ہے کہ پارٹی کی ایک طاقتورخاتون رہنماء کے کہنے پرملازمین کی تنخواہیں روکی گئیں اورگذشتہ تین برس سے ملازمین تنخواہوں کے لیے دربدرہیں۔ محکمہ خزانہ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ پیپلزپارٹی کی اعلی قیادت نے ملازمین کا مسئلہ حل کرنے کی اجازت نہیں دی اس لیے نئے بجٹ میں بھی ملازمین کے لیے رقم مختص نہیں کی گئی ہے۔ پیپلزپارٹی کی اعلی قیادت سے اجازت نہ ملنے پربجٹ میں رقم مختص کرنے اور تنخواہیں جاری کرنے کا تاحال کوئی فیصلہ نہیں کیا جاسکا ۔دوسری جانب دوہزارتیرہ میں حکومت سندھ نے صوبے کے ایک لاکھ سے زائد عارضی اورکنٹریکٹ پربھرتی کیے گئے ملازمین کومستقل کرنے کے لیے سندھ اسمبلی سے بل منظورکرایا مگران کی مستقلی کا سندھ حکومت کے نویں بجٹ میں بھی کوئی فیصلہ نہیں ہوسکا ہے ۔محکمہ خزانہ کے مطابق ملازمین کومستقل کرنے کا معاملہ وزیراعلی ہاؤس میں منظوری کا منتظرہے منظوری ملنے کے بعد ہی ملازمین کومستقل کیے جانے اوران کی تنخواہوں اورمراعات سے متعلق بجٹ مختص کیا جائے گا جبکہ وزیراعلی ہاؤس کے ذرائع کا کہنا ہے کہ عارضی اورکنٹڑیکٹ ملازمین کومستقل کرنے کا حتمی فیصلہ پیپلزپارٹی کی قیادت نے کرنا ہے ۔ نئے مالی سال دوہزارسولہ اورسترہ کے بجٹ میں چودہ ہزارسے زائد نئی اسامیاں تخلیق کی گئی ہیں اوراس مقصد کے لیے بجٹ میں پندرہ ارب بہترکروڑروپے کی خطیررقم بھی مختص کردی گئی ہے۔
روٹی کپڑا مکان والی پالیسی بدل گئی یا پیپلزپارٹی کی موجودہ قیادت کی حیرت انگیزحکمت عملی سامنے آگئی
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
موٹر سائیکل سوار افراد کے لیے بڑی خوشخبری آگئی
-
پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)
-
نیٹ میٹرنگ ! سولر صارفین کو بڑی سہولت مل گئی
-
محکمہ موسمیات نے شدید بارشوں کی پیشگوئی کردی
-
ملازمین کی کم از کم ماہانہ اجرت، بڑی خوشخبری آگئی
-
عالمی منڈی میں سونے کی قیمت میں بڑی چھلانگ، فی اونس نرخ 4500 ڈالر سے تجاوز کرگیا
-
موسمِ سرما کی پہلی برف باری
-
کھیرے کے ٹکڑوں پر گھر میں بنا یہ پاؤڈر چھڑکیں اور چوہوں اور کاکروچز سے نجات پائیں
-
ملک میں فی تولہ سونے کی قیمت میں بڑی کمی
-
پاکستان میں کینسر کے کیسز میں غیر معمولی اضافہ، نئی تحقیق میں اہم انکشافات
-
سرکاری ملازمین کی شادی شدہ بیٹیوں کے لیے نوکری، بڑی خبر آگئی
-
بینک اسلامی نے شرعی اصولوں پر مبنی سونے کی بنیاد پر ملک کی پہلی فنانسنگ سہولت کا آغاز کر دیا
-
زلزلے کے جھٹکے، شہریوںمیں خوف وہراس پھیل گیا
-
اداکارہ مسکان ملک سڑک کنارے دودھ کی ٹھنڈی بوتلیں فروخت کرنے پر مجبور



















































