ہفتہ‬‮ ، 29 اگست‬‮ 2026 

35 سالہ معذور ترک نے دنیا کو حیرت میں ڈال دیا

datetime 19  مئی‬‮  2016 |

اسلام آباد(نیوزڈیسک) بہت سے پڑھے لکھے تندرست افراد کے لیے کتاب تو دور کی بات، دو سطریں بھی ڈھنگ سے لکھنا آسان نہیں ہوتا۔ ترکی سے تعلق رکھنے والے اس باہمت نوجوان کو داد دیجیے جس کا پورا جسم مفلوج ہے۔ مگر اس نے اپنی ناک سے پوری کتاب تحریر کرکے دنیا کو ورطۂ حیرت میں ڈال دیا ہے۔

الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق 35 سالہ مصطفی ارول دماغ کی بیماری (Cerebral Palsy) میں مبتلا ہے، جس کے باعث وہ اپنے ہاتھوں اور پیروں کو حرکت نہیں دے سکتا۔ اس مرض کا شکار ہونے سے پہلے اس نے تعلیم حاصل کی تھی۔ مگر اچانک اس کا بدن مفلوج ہوگیا۔ وہ کئی برس سے اپنے والدین اور بہن بھائیوں کے رحم و کرم پر جی رہا ہے۔ اس بیماری سے لڑتے ہوئے اسے اتنا تجربہ ہوا کہ اس نے سوچا کیوں نہ اچانک اس بیماری میں مبتلا ہونے والوں کی رہنمائی کے لیے اپنے تجربات شیئر کیے جائیں۔ مگر کیسے؟ اگرچہ وہ لکھنا پڑھنا جانتا تھا، مگر اب تو ہاتھ پیر ہلانے سے وہ قاصر تھا۔

باہمت شخص نے اس معذوری کو اس نے اپنے مقصد کی راہ میں حائل ہونے نہیں دیا۔ مصطفیٰ ارول کو اس کے والد نے ایک کمپیوٹر لاکر دیا، جس پر وہ اپنی ناک سے کمپوزنگ کرکے اپنے خیالات کو کتابی شکل دیتا رہا۔ چونکہ ناک سے کمپوز کرنا تندرست افراد کے لیے بھی ناممکن نہیں تو مشکل ضرور ہے، مگر مصطفی ارول نے اپنے مفلوج وجود کے ساتھ بھی اس منصوبے کو عملی جامہ پہناکر دکھایا۔ وہ مسلسل سات برس تک ناک سے کمپوز کرکے کتاب لکھتا رہا۔ بالآخر وہ کتاب تیار ہوکر چھپ بھی گئی۔ ایک معذور شخص کی جانب سے ناک سے لکھی گئی یہ دنیا کی پہلی کتاب ہے۔ جس کا نام مصطفی ارول نے ’’وہ مجھے معذور سمجھتے ہیں‘‘ رکھا ہے۔

دماغی عارضے کا شکار مصطفیٰ ارول اچھی طرح بول بھی نہیں سکتا۔ جب ان کی یہ منفرد کتاب چھپی تو ترک خبر رساں ادارے اناضول نے اس سے ملاقات کی۔ مصطفیٰ ارول کا کہنا تھا کہ میں مزید کتابیں اور مضامین لکھنا چاہتا ہوں۔ مصطفی ترکی کے مغربی علاقے ایدن سے تعلق رکھتا ہے۔ کتاب کی چھپائی میں مقامی حکومت نے اسے تعاون کیا۔ مصطفی کا کہنا تھا کہ کتاب لکھنے میں مجھے زیادہ عرصہ اس لیے لگا کہ اس دوران میں نے اپنی تعلیم بھی جاری رکھی۔ مصطفیٰ اردل نے ماس کمیونی کیشن اور اقتصادیات میں ماسٹر کر رکھا ہے۔ اب وہ ترک ادب میں بھی ماسٹر کررہا ہے۔ مصطفیٰ کی والدہ خدیجہ کا کہنا تھا کہ میں نے اس کتاب کے بارے میں صدر رجب طیب اردگان کو بھی ٹیلی فون کرکے آگاہ کیا تو وہ بہت خوش ہوئے اور مصطفیٰ کا ہر سطح پر سرکاری تعاون کرنے کی یقین دہانی بھی کرائی۔ مصطفی کے والدین کا کہنا ہے کہ وہ چاہتے ہیں کہ ان کا بچہ گھر میں محبوس ہوکر نہ رہے۔ حکومت اس کے لیے کوئی مناسب روزگار کا اہتمام کرے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…