منگل‬‮ ، 01 ستمبر‬‮ 2026 

وزن گھٹانے کے تین انتہائی آ سان اور آزمودہ طریقے

datetime 20  ‬‮نومبر‬‮  2016 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک)وزن بڑھانا جتنا آسان ہے ، اسے گھٹانا اتنا ہی مشکل ہے۔اس کے مشکل لگنے کی وجہ یہ بھی ہے کہ عام طور پر اس کیلئے اپنائے جانے والے طریقوں میں دلچسپی کا عنصر نہیں ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر صبح سویرے میٹھی نیند کی قربانی دے کے چہل قدمی کیلئے جانا کسے آسان یا اچھا لگے گا۔ اسی طرح مزیدار سنیکس کو چھوڑ کے پھیکی ابلی سبزیاں کھانا بھی کفران نعمت ہی معلوم ہوتا ہے تاہم روزمرہ معمولات میں تھوڑی سی تبدیلی سے وزن کی کمی کو آسان اور دلچسپ بنایا جاسکتا ہے۔کچھ ماہرین کا دعویٰ ہے کہ آئینے کے سامنے کھانا کھانے سے وزن میں کمی میں مدد ملتی ہے۔ اس طرح کھانے سے اپنے کھانے پینے کی عادات پر بھی نظر پڑتی ہے اور انہیں سدھارنے کے ساتھ ساتھ غذا کی مقدار بھی کم ہوجاتی ہے۔ کچھ ماہرین کہتے ہیں کہ اگر آئینے کے سامنے کھانے کو مزید موثر بنانا ہے تو بے لباس حالت میں کھائیں۔ اس طرح کھانا کچھ عجیب تو معلوم ہوگا تاہم جب اپنے جسم کے بے ڈھب بل دکھائی دیں گے تو کھانے کی مقدار خودبخود ہی کم ہوجائے گی۔گھر سے کپڑوں کی دھلائی والی ماسی کی چھٹی کردیں اور خود کپڑے دھونا شروع کردیں۔ یقین مانیں مگر حقیقت یہ ہے کہ کپڑے بھگونا، ملنا،کھنگالنا اور پھر نچوڑ کے پھیلانا ایک بھرپور ورزش ہے جس سے 120کیلوریز تک جلائی جاسکتی ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)


میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…