بدھ‬‮ ، 12 اگست‬‮ 2026 

دنیا بھر میں سزائے موت دینے کے واقعات میں اضافہ ٗ پاکستان کا نام فہرست میں تیسرے نمبر پر آگیا 

datetime 7  اپریل‬‮  2016 |

نیویارک(نیوزڈیسک) اسال 2015 میں دنیا بھر میں سزائے موت دینے کے واقعات میں 50 فیصد سے بھی زیادہ اضافہ دیکھا ریکارڈ ہوا ہے ٗ فہرست میں پاکستان کا نمبر تیسرا ہے۔انسانی حقوق کے لئے کام کرنے والے بین الاقوامی ادارے کی رپورٹ کے مطابق 2015 میں دنیا بھر میں سزائے موت دینے کے واقعات میں 54 فیصد اضافہ دیکھا گیا جس میں سے 90 فیصد اضافہ ایران، سعودی عرب اور پاکستان میں دیکھا گیا ٗچین میں گزشتہ برس سزائے موت پانے والوں کا ڈیٹا میسر نہیں کیونکہ وہاں سزائے موت کو خفیہ رکھا جاتا ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق گزشتہ برس ایک ہزار 634 افراد کو پھانسیاں دی گئیں 2014 میں یہ تعداد 1061 تھی۔ گزشتہ برس ایران میں سب سے زیادہ 977 افراد کو پھانسیاں ہوئیں ٗ سعودی عرب میں کم سے کم 158 افراد کے سر قلم کئے گئے اور پاکستان میں 326 افراد کو تختہ دار پر لٹکایا گیا۔ایمنسٹی انٹرنیشنل کے سیکرٹری جنرل سلیل شیٹھی کے مطابق میڈیا رپورٹس سے لگائے گئے اندازوں کے مطابق چین میں دنیا کے تمام ممالک کے برابر لوگوں کو سزائے موت دی گئی ٗ چین سزائے موت دینے کے اپنے فیصلے کا جائزہ لے رہا ہے جس کے بعد اس بات کا امکان ہے کہ وہاں پھانسی پانے والوں کی تعداد میں کمی واقع ہو۔انسانی حقوق کے بین الاقوامی ادارے کے مطابق کانگو، مڈغاسکر، فجی اور سورینم نے تمام جرائم میں سزائے موت کو ختم کردیا ہے ٗ منگولیا بھی سزائے موت پر عمل درآمد کرنے کے تیار ہے ٗاس کے علاوہ چین، ویتنام اور ملائشیا نے سزائے موت پر عمل درآمد کے فیصلوں کا جائزہ لینے کی یقین دہائی کرائی ہے ٗجب 1977 میں سزائے موت پر عمل درآمد کے فیصلے کے خلاف مہم شروع کی گئی تو اس وقت صرف 16 ممالک ایسے تھے جہاں پھانسی دینے پر پابندی تھی لیکن اب یہ تعداد 102 ہو چکی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…