بدھ‬‮ ، 12 اگست‬‮ 2026 

پنجاب کے سرکاری ہسپتالوں میں وینٹی لیٹرز کی قلت پیدا ہو گئی

datetime 20  مارچ‬‮  2016 |

لاہور(نیوز ڈیسک)پنجاب کے سرکاری ہسپتالوں میں وینٹی لیٹرز کی قلت پیدا ہو گئی ہے ۔ اس وقت 100وینٹی لیٹرز خراب پڑئے ہیں ۔ وینٹی لیٹرز کی کمی کی وجہ سے مریضوں کی اموات بڑہ گئی ہے ۔صوبے کے تقریباًگیارہ کروڑ آبادی کے لیے صرف 5 سو پچاس وینٹی لیٹرز دستیاب ہیں۔کئی ایسے ہسپتال بھی ہیں کہ جہاں پر کوئی وینٹی لیٹر موجود ہی نہیں ہے ۔ذرائع کا کہنا ہے کہ صوبے کے سرکاری ہسپتالوں میں اس وقت وینٹی لیٹرز کی شدید قلت ہے جس کی وجہ سے روزانہ کئی مریض موت کے منہ میں جا ر ہے اور ایک سو سے زائد وینٹی لیٹر عرصہ داراز سے خراب پڑئے ہیں۔، جبکہ صوبے کے 10شہروں کے سرکاری ہسپتالوں میں وینٹی لیٹرز کی سہولت دستیاب ہی نہیں ہے۔ تشویشناک حالت میں مریضوں کو دوسرے شہروں سیلاہور ریفر کیا جانے لگا۔ مریضوں کو وینٹی لیٹرز کے لئے بھی سفارشیں بھی تلاش کرانا پڑتی ہیں۔ قصور، منڈی بہاوالدین، بھکر، خوشاب، سیالکوٹ، مظفرگڑھ، پاکپتن، اوکاڑہ، خانیوال اور لودھراں کے سرکاری ہسپتالوں میں وینٹی لیٹرز نہیں ہیں۔ پنجاب کے 50سرکاری ہسپتالوں میں صرف 550وینٹی لیٹرز دستیاب ہیں۔ صوبہ بھر کے 10شہروں میں وینٹی لیٹرز دستیاب نہ ہونے کے باعث تشویشناک حالت والے مریضوں کو لاہور لانا پڑتا ہے۔ صوبائی دارالحکومت لاہور کے ہسپتالوں میں پہلے ہی بہت زیادہ رش ہوتا ہے اور مریضوں کو سفارش کی بنیاد پر وینٹی لیٹرز مہیا ہوتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…