بدھ‬‮ ، 12 اگست‬‮ 2026 

پنجاب کے وہ اضلاع جہاں کے 20 لاکھ بچوں کوسکولوں سے آؤٹ کردیا گیا

datetime 4  مارچ‬‮  2016 |

لاہور (نیوز ڈیسک )محکمہ تعلیم کی سکول ایجوکیشن کی جانب ترجیحات کم، ضلعی سربراہوں ( ای ڈی اوز) کی بھی کمزور گرفت، لاہور سمیت پنجاب بھر میں گیارہ ہزار کے قریب سکولز یا تو ختم کر دئیے گئے یا پھر فنڈز کی کمی کا بہانہ بنا کر انہیں دوسرے سکولوں میں مرج (ضم ) کر دیا گیا، جس کے باعث 20 لاکھ کے قریب بچوں کے ڈراپ آؤٹ کا ذکر کیا گیا ہے، جس سے گزشتہ 5 سالوں میں پرائمری ایجوکیشن کی سطح پر معیار تعلیم اور اس میں کمی واقع ہوئی ہے جس کا وزیر اعلیٰ پنجاب نے سخت نوٹس لے لیا ہے۔ ’’پاکستان‘‘ کو محکمہ تعلیم کے ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ وزیر اعلیٰ کو رپورٹ پیش کی گئی ہے کہ محکمہ تعلیم کی سکولز ایجوکیشن کی جانب ترجیحات انتہائی کم ہو کر رہ گئی ہیں اور اس میں ضلعی سربراہوں ( ای ڈی اوز) اور ی ای اوز نے بھی اپنے فرائض سے مبینہ طور پر چشم پوشی سے کام لے رکھا ہے جس کے باعث محکمہ تعلیم کی سکولز ایجوکیشن میں گرفت انتہائی کمزور ہو کر رہ گئی ہے، جس سے پرائمری ایجوکیشن کی سطح پر معیار تعلیم گر کر رہ گیا ہے اور اس میں صورتحال اس حد تک خطرناک شکل اختیار کر چکی ہے کہ لاہور سمیت پنجاب بھر میں سکولوں کی تعداد میں ہر سال 1500 سے 2000 تک کمی واقع ہو رہی ہے ۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ حکومت اور محکمہ تعلیم کی تمام تر کوششوں کے باوجود اب بھی 20 لاکھ کے قریب بچے سرکاری سکولوں سے باہر ہیں، یعنی ڈراپ آؤٹ کی شرح کا ذکر کیا گیا ہے جس میں سب سے زیادہ تعداد جنوبی پنجاب کے اضلاع میں بچوں کے ڈراپ آؤٹ کی شرح بتائی گئی ہے جبکہ دوسرے نمبر پر لاہور ڈویڑن اور تیسرے نمبر پر گوجرانوالہ ڈویڑن کے اضلاع کا ذکر کیا گیا ہے۔ رپورٹ میں اس بات کا بھی ذکر کیا گیا ہے کہ لاہور سمیت صوبے بھر کے سرکاری تعلیمی اداروں میں ہر سال انرولمنٹ بڑھانے کی فرضی اور بوگس رپورٹس تیار کی جاتی ہیں۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…