بدھ‬‮ ، 25 مارچ‬‮ 2026 

ہمیں صرف پاکستان پراعتماد ہے ؟سعودی عرب نے کتنے ممالک کی ایران سے ثالثی کرانے کی پیشکش ٹھکرائی ؟

datetime 18  جنوری‬‮  2016 |

اسلام آباد (نیوزڈیسک) وزیراعظم نواز شریف آرمی چیف کے ساتھ سعودی عرب اور ایران کے درمیان مصالحت کرانے کے دلیرانہ سفارتی مشن پر آج ریاض روانہ ہو رہے ہیں۔ ان کا مشن دلیرانہ اس لئے ہے کہ اس سے پہلے روس، ترکی اور سلطنت اومان دونوں ملکوں کے درمیان ثالثی کی پیشکش کر چکے ہیں جن کا جواب نہ آنے کی باعث ان ملکوں کے دارالحکومتوں میں اب جوش و خروش مفقود ہے۔ ان ملکوں کی پیشکش کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ روس اس وقت ایران کا سب سے بڑا اتحادی ہے اور ایران پراثر انداز ہونے کی استعداد رکھتا ہے۔ ترکی ایران کا پڑوسی ملک ہے تو دوسری جانب سعودی عرب سے حالیہ برسوں میں اس کے تعلقات بہتر ہوئے ہیں۔ سلطنت اومان خلیج فارس کے کنارے پر ایسی غیر جانبدار ریاست ہے جس کے ایران اور سعودی عرب دونوں سے بہترین تعلقات ہیں۔ پاکستان روایتی طور پر سعودی عرب کے بہت قریب رہا ہے لیکن مشرقی پڑوسی ہونے کے ناطے ایران سے تعلقات بھی کشیدگی سے پاک رہے ہیں اور دونوں ملکوں کے درمیان گیس پائپ لائن جیسا اہم معاشی منصوبہ بھی زیر تکمیل ہے۔ پاکستان کی طرف سے مصالحت کی اس کوشش کی تفصیلات سے آگاہ ایک ذریعہ کے مطابق وزیر اعظم کا مشن دو دھاری تلوار کی مانند ہے۔کامیابی کی صورت میں وزیر اعظم نواز شریف اور آرمی چیف جنرل راحیل شریف کی قائدانہ صلاحیتوں کو خراج تحسین پیش کیا جائے گا جب کہ مشن کو خاطر خواہ کامیابی نہ ملنے کی صورت میں ایران اور سعودی عرب کے درمیان ثالثی کی مزید کوششوں کو ٹھیس پہنچنے کا اندیشہ ہے۔ اس ذریعہ کے مطابق پاکستان کی طرف سے ثالثی کی یہ کوشش ریاض اور تہران کی رضامندی کے بغیر نہیں۔ سعودی ولی عہد کے حالیہ دورہ پاکستان کے موقع پر انہیں پاکستان کی طرف سے ثالثی کی خواہش سے آگاہ کر دیا گیا تھا جبکہ تہران کو بھی سفارتی ذرائع سے بتایا گیا کہ ایران اور سعودی عرب کے درمیان مصالحت اور اختلافات کم کرنا دونوں ملکوں کے مفاد میں ہے۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ چین کے صدر ان ہی تاریخوں میں ایران اور سعودی عرب کا دورہ کر رہے ہیں اور ایسے ہائی پروفائل دورہ کے موقع پر ایک دوسرے ملک کے سربراہ حکومت کی میزبانی کرنا خاص اہمیت کا حامل ہے۔ اس ذریعہ کے مطابق وزیر اعظم کا مشن اس اعتبار سے مشکل ہے کہ سعودی عرب مطالبہ کر رہا ہے کہ ایران اس کے مشرقی صوبہ قطیف، پڑوسی ملک یمن اور بحرین میں مداخلت سے باز رہے۔ سعودی عرب کا الزام ہے کہ ایران، یمن کو اس کا ویت نام بنانے کیلئے کوشاں ہے۔ دوسری طرف ایران اور سعودی عرب شام میں محاذ آراء ہیں۔ حال ہی میں ایرانی وزیر خارجہ نے سعودی عرب پر فرقہ واریت پھیلانے کا الزام عائد کیا تھا۔ اس دو طرفہ الزام تراشی کے باعث کسی بھی ملک کیلئے دونوں ملکوں کے درمیان مصالحت کرانا بہرحال ضرور ایک مشکل مشن ہے۔



کالم



مذہب کی جنگ(آخری حصہ)


اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…