اسلام آباد (نیوز ڈیسک) روزمرہ خوراک میں اخروٹ شامل کرنے سے صحت کو متعدد فوائد حاصل ہوسکتے ہیں۔ ایک طبی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ باقاعدگی سے اخروٹ کھانے سے جسم میں غذا سے متعلق ورم کی سطح کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
تحقیق کے مطابق، روزانہ اخروٹ استعمال کرنے والے افراد میں غذائی ورم کی سطح کا جائزہ لیا گیا، جس کے نتائج اس خشک میوے کے ممکنہ فوائد کی نشاندہی کرتے ہیں۔ تحقیق میں کیلیفورنیا کی لوما لنڈا یونیورسٹی کے اسکول آف پبلک ہیلتھ سے وابستہ محققین نے غذاؤں اور جسم میں ورم کے درمیان تعلق کا جائزہ لیا۔
اس کلینیکل ٹرائل میں 319 عمر رسیدہ افراد کو شامل کیا گیا، جنہیں دو گروپوں میں تقسیم کیا گیا تھا۔ ایک گروپ کے شرکا کو روزانہ تقریباً 28 سے 57 گرام اخروٹ کھانے کو دیے گئے، جبکہ دوسرے گروپ نے اخروٹ استعمال نہیں کیے۔ دونوں گروپوں کو اپنی معمول کی خوراک میں دیگر تبدیلیاں نہ کرنے کی ہدایت کی گئی۔
دو سال تک جاری رہنے والے اس مطالعے کے اختتام پر محققین نے مشاہدہ کیا کہ اخروٹ کھانے والے افراد میں غذائی ورم کی سطح دوسرے گروپ کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم تھی۔ تحقیق کے نتائج جرنل آف اکیڈمی آف نیوٹریشن اینڈ ڈائیٹیٹکس میں شائع ہوئے۔
ماہرین کے مطابق جسم میں طویل عرصے تک برقرار رہنے والا ورم صحت کے مختلف مسائل سے منسلک ہوسکتا ہے، جن میں امراضِ قلب بھی شامل ہیں۔ تاہم، اخروٹ کے استعمال اور بیماریوں کے خطرات میں کمی کے درمیان تعلق کو مزید سمجھنے کے لیے اضافی تحقیق کی ضرورت ہے۔
اخروٹ مزاج اور ذہنی صحت کے لیے بھی مفید؟
اخروٹ کے ممکنہ فوائد کے حوالے سے ایک دوسری تحقیق بھی سامنے آچکی ہے، جس کے نتائج جریدے فوڈ اینڈ فنکشن میں شائع ہوئے۔ اس تحقیق میں بتایا گیا کہ اخروٹ کا باقاعدہ استعمال مزاج پر مثبت اثرات مرتب کرنے اور سیروٹونن کے میٹابولزم سے متعلق عمل میں معاون ثابت ہوسکتا ہے۔
سیروٹونن دماغ اور نظامِ ہاضمہ میں پایا جانے والا ایک اہم نیوروٹرانسمیٹر ہے، جو مزاج، نیند اور دیگر جسمانی افعال میں کردار ادا کرتا ہے۔
محققین کے مطابق اخروٹ میں اومیگا 3 فیٹی ایسڈز، پولی فینولز اور متعدد مفید غذائی اجزا پائے جاتے ہیں۔ یہ اجزا آنتوں میں موجود بیکٹیریا اور جسم کے مختلف حیاتیاتی افعال کے ساتھ تعامل کے ذریعے صحت پر مثبت اثرات مرتب کرسکتے ہیں۔
مجموعی طور پر تحقیق سے ظاہر ہوتا ہے کہ متوازن غذا میں اخروٹ مناسب مقدار میں شامل کرنا صحت مند طرزِ زندگی کا مفید حصہ ہوسکتا ہے، تاہم اسے کسی بیماری کے علاج کا متبادل نہیں سمجھنا چاہیے۔



















































