اسلام آباد (نیوز ڈیسک) ہائی بلڈ پریشر ایک ایسا مرض ہے جس کا شکار بہت سے افراد طویل عرصے تک اس سے بے خبر رہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اسے عام طور پر ’’خاموش قاتل‘‘ کہا جاتا ہے۔ اس بیماری کی واضح علامات اکثر اس وقت سامنے آتی ہیں جب بلڈ پریشر خطرناک حد تک بڑھ چکا ہو۔
ماہرین کے مطابق بلند فشار خون کی وجہ سے دل کے دورے اور فالج سمیت کئی سنگین بیماریوں کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔ صحت مند طرزِ زندگی اپنانے کے ساتھ متوازن غذا بھی بلڈ پریشر کو معمول پر رکھنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔
تحقیق کے مطابق جسم میں سوڈیم اور پوٹاشیم کی مناسب مقدار کا توازن برقرار رکھنا بلڈ پریشر کو قابو میں رکھنے کے لیے اہم ہے۔ خاص طور پر پوٹاشیم سے بھرپور غذاؤں کا استعمال ہائی بلڈ پریشر کے خطرے کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔
نمک اور بلڈ پریشر کا تعلق
طبی تحقیقات میں طویل عرصے سے زیادہ نمک کے استعمال اور ہائی بلڈ پریشر کے درمیان تعلق پر روشنی ڈالی جاتی رہی ہے۔ ضرورت سے زیادہ سوڈیم جسم میں پانی کی مقدار بڑھاتا ہے، جس کے نتیجے میں خون کی شریانوں پر دباؤ بڑھ سکتا ہے اور بلڈ پریشر اوپر جانے کا امکان پیدا ہوتا ہے۔
تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ نمک کو مکمل طور پر ترک کرنا بھی درست حکمت عملی نہیں، بلکہ اس کا مناسب اور محدود استعمال زیادہ بہتر ہے۔ ایک حالیہ تحقیق میں بھی اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ خوراک میں سوڈیم کی مقدار کم رکھنے کے ساتھ پوٹاشیم کا استعمال بڑھایا جائے۔
پوٹاشیم جسم سے اضافی سوڈیم کو پیشاب کے ذریعے خارج کرنے میں مدد دیتا ہے، جبکہ یہ خون کی شریانوں کو پھیلانے اور انہیں پرسکون رکھنے میں بھی معاون ثابت ہوتا ہے۔ اس طرح بلڈ پریشر کو متوازن رکھنے میں مدد مل سکتی ہے۔
روزانہ پوٹاشیم کتنی مقدار میں درکار ہے؟
امریکن ہارٹ ایسوسی ایشن کی ہائی بلڈ پریشر سے متعلق گائیڈ لائنز کے مطابق بالغ افراد کو روزانہ تقریباً 3,500 سے 5,000 ملی گرام پوٹاشیم حاصل کرنے کی ضرورت ہوسکتی ہے، جبکہ سوڈیم کی روزانہ مقدار 1,500 ملی گرام سے کم رکھنے کی تجویز دی جاتی ہے۔
شواہد سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ نمک کے استعمال میں کمی اور پوٹاشیم والی غذاؤں میں اضافہ دل کی صحت اور بلڈ پریشر دونوں کے لیے فائدہ مند ہوسکتا ہے۔
کن غذاؤں سے پوٹاشیم حاصل کیا جاسکتا ہے؟
پوٹاشیم حاصل کرنے کے لیے مختلف پھل اور سبزیاں روزمرہ خوراک کا حصہ بنائی جاسکتی ہیں۔ کیلا، کھجور اور خربوزہ پوٹاشیم کے اچھے ذرائع میں شمار ہوتے ہیں، جبکہ پالک سمیت کئی دوسری غذاؤں سے بھی جسم کو مطلوبہ مقدار میں پوٹاشیم فراہم کیا جاسکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق خوراک میں پوٹاشیم سے بھرپور اشیا شامل کرنے سے بلڈ پریشر کو کم رکھنے میں مدد مل سکتی ہے۔ تاہم متوازن غذا کے ساتھ نمک کا مناسب استعمال بھی ضروری ہے۔
نوٹ: یہ معلومات طبی تحقیقات اور جریدوں میں شائع ہونے والی تفصیلات کی بنیاد پر پیش کی گئی ہیں۔ ہائی بلڈ پریشر کے مریض اپنی خوراک یا علاج میں تبدیلی کرنے سے قبل اپنے معالج سے ضرور مشورہ کریں۔



















































