اسلام آباد (نیوذ ڈ یسک)متحدہ عرب امارات کا رخ کرنے والے پاکستانی مسافروں کے لیے ضروری ہے کہ وہ سفر سے پہلے وہاں ادویات سے متعلق قوانین اور پابندیوں سے مکمل طور پر آگاہ ہوں،
کیونکہ بعض ایسی دوائیں جو پاکستان میں عام طور پر استعمال کی جاتی ہیں، یو اے ای میں ممنوع یا محدود ہو سکتی ہیں۔
پاکستان سے بڑی تعداد میں لوگ روزگار، کاروبار، تعلیم یا سیر و تفریح کے لیے متحدہ عرب امارات جاتے ہیں۔ ان مسافروں میں ایسے افراد بھی شامل ہوتے ہیں جو کسی طبی مسئلے کے باعث باقاعدگی سے ادویات استعمال کرتے ہیں۔ اس لیے سفر سے قبل دوا کی قانونی حیثیت جانچ لینا کسی بھی ممکنہ مشکل سے بچنے کے لیے اہم ہے۔
یو اے ای روانگی سے پہلے مسافروں کو چاہیے کہ وہ یہ تصدیق کرلیں کہ ان کی زیرِ استعمال دوا ملک میں لے جانے کی اجازت ہے یا نہیں۔ خاص طور پر ایسی ادویات جن میں نیند لانے والے، ذہنی دباؤ کم کرنے والے یا اعصابی نظام کو متاثر کرنے والے اجزا شامل ہوں، ان کے بارے میں اضافی احتیاط ضروری ہے۔
مسافر دورانِ سفر اپنی دوا کے ساتھ مستند ڈاکٹر کا تجویز کردہ نسخہ بھی ضرور رکھیں، تاکہ ضرورت پڑنے پر دوا کے استعمال کی وجہ اور مقدار ثابت کی جاسکے۔
اس کے علاوہ ادویات کو ہمیشہ ان کی اصل پیکنگ میں رکھنا بہتر ہے اور سفر کے دوران صرف ذاتی استعمال کے لیے درکار مقدار ہی ساتھ لے جانی چاہیے۔ بغیر تصدیق کے زیادہ مقدار میں دوا لے جانے سے گریز کرنا ضروری ہے۔
متحدہ عرب امارات کے متعلقہ قوانین کی خلاف ورزی کی صورت میں مسافر کو قانونی کارروائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ بعض صورتوں میں ممنوعہ ادویات رکھنے پر تین ماہ تک قید یا 20 ہزار درہم تک جرمانہ عائد ہونے کی سزائیں بھی مقرر ہیں۔
لہٰذا یو اے ای جانے والے پاکستانی شہری سفر سے پہلے اپنی ادویات کی قانونی حیثیت، ضروری دستاویزات اور متعلقہ ضوابط کی مکمل تصدیق کرلیں تاکہ ایئرپورٹ یا ملک میں داخلے کے وقت کسی غیر ضروری مشکل سے بچا جاسکے۔



















































