جمعرات‬‮ ، 20 اگست‬‮ 2026 

یو اے ای جانے سے پہلے یہ اہم بات جان لیں

datetime 20  اگست‬‮  2026 |

اسلام آباد (نیوذ ڈ یسک)متحدہ عرب امارات کا رخ کرنے والے پاکستانی مسافروں کے لیے ضروری ہے کہ وہ سفر سے پہلے وہاں ادویات سے متعلق قوانین اور پابندیوں سے مکمل طور پر آگاہ ہوں،

کیونکہ بعض ایسی دوائیں جو پاکستان میں عام طور پر استعمال کی جاتی ہیں، یو اے ای میں ممنوع یا محدود ہو سکتی ہیں۔

پاکستان سے بڑی تعداد میں لوگ روزگار، کاروبار، تعلیم یا سیر و تفریح کے لیے متحدہ عرب امارات جاتے ہیں۔ ان مسافروں میں ایسے افراد بھی شامل ہوتے ہیں جو کسی طبی مسئلے کے باعث باقاعدگی سے ادویات استعمال کرتے ہیں۔ اس لیے سفر سے قبل دوا کی قانونی حیثیت جانچ لینا کسی بھی ممکنہ مشکل سے بچنے کے لیے اہم ہے۔

یو اے ای روانگی سے پہلے مسافروں کو چاہیے کہ وہ یہ تصدیق کرلیں کہ ان کی زیرِ استعمال دوا ملک میں لے جانے کی اجازت ہے یا نہیں۔ خاص طور پر ایسی ادویات جن میں نیند لانے والے، ذہنی دباؤ کم کرنے والے یا اعصابی نظام کو متاثر کرنے والے اجزا شامل ہوں، ان کے بارے میں اضافی احتیاط ضروری ہے۔

مسافر دورانِ سفر اپنی دوا کے ساتھ مستند ڈاکٹر کا تجویز کردہ نسخہ بھی ضرور رکھیں، تاکہ ضرورت پڑنے پر دوا کے استعمال کی وجہ اور مقدار ثابت کی جاسکے۔

اس کے علاوہ ادویات کو ہمیشہ ان کی اصل پیکنگ میں رکھنا بہتر ہے اور سفر کے دوران صرف ذاتی استعمال کے لیے درکار مقدار ہی ساتھ لے جانی چاہیے۔ بغیر تصدیق کے زیادہ مقدار میں دوا لے جانے سے گریز کرنا ضروری ہے۔

متحدہ عرب امارات کے متعلقہ قوانین کی خلاف ورزی کی صورت میں مسافر کو قانونی کارروائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ بعض صورتوں میں ممنوعہ ادویات رکھنے پر تین ماہ تک قید یا 20 ہزار درہم تک جرمانہ عائد ہونے کی سزائیں بھی مقرر ہیں۔

لہٰذا یو اے ای جانے والے پاکستانی شہری سفر سے پہلے اپنی ادویات کی قانونی حیثیت، ضروری دستاویزات اور متعلقہ ضوابط کی مکمل تصدیق کرلیں تاکہ ایئرپورٹ یا ملک میں داخلے کے وقت کسی غیر ضروری مشکل سے بچا جاسکے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…