بیت المقدس(نیوز ڈیسک) فلسطینی اتھارٹی کی جانب سے یاسرعرفات کی موت کے اسباب کے تعین کے لیے قائم کردہ کمیشن نے دعویٰ کیا ہے کہ انہیں عرفات کی موت سے متعلق اہم شواہد ملے ہیں اور وہ مبینہ طور پر فلسطینی لیڈر کے قاتل کے قریب پہنچ گئے ہیں۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق فلسطینی تحقیقاتی کمیشن کے سربراہ میجر جنرل توفیق الطیراوی نے رام اللہ میں ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کئی سال کی چھان بین کے بعد وہ یاسرعرفات کے قاتل کے قریب پہنچ گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مزید مختصر تحقیقات کے بعد ہم یاسرعرفات کے قاتل تک پہنچ جائیں گے اور جلد ہی قوم کو آگاہ کیا جائے گا کہ عرفات کو کیسے اور کس نے قتل کیا۔ تاہم انہوں نے تحقیقات میں سامنے آنے والے مشتبہ قاتل کے بارے میں کسی قسم کی وضاحت نہیں کی۔ فلسطینی تحقیقاتی کمیشن کے سربراہ نے یہ انکشاف ایک ایسے وقت میں کیا ہے جب یاسرعرفات کی 11 ویں برسی منائی جا رہی ہے۔ یاسرعرفات کی موت کے اسباب سے متعلق اب تک کئی دوسرے ملکوں کے ماہرین نے بھی چھان پھٹک کی۔ ان میں فرانسیسی طبی ماہرین خاص طور پر شامل ہیں مگر چند ماہ قبل فرانسیسی عدالت نے یہ کہہ کر مزید تحقیقات روک دی تھیں کہ انہیں یاسرعرفات کو زہر دے کر ہلاک کرنے کا کوئی ثبوت نہیں ملا ہے۔ تاہم یاسرعرفات کی بیوہ سوہا عرفات نے فرانسیسی عدالت کے فیصلے پر نظرثانی کی درخواست دی تھی اور کہا تھا کہ انہیں یقین ہے کہ ان کے شوہر کو زہر دیا گیا تھا۔ سوہا عرفات نے اپنے شوہر یاسرعرفات کو پلوٹینیم 210
دیکھئے شیریں مزاری کی بیٹی نے پی ٹی آئی کو کس طرح بدنام کر کے رکھ دیا
مزید پڑھئیے:ذولفقار مرزا کے ایان علی اور آصف زرداری کے بارے میں تہلکہ خیز انکشافات نامی خطرناک زہر دے کر قتل کرنے کا دعویٰ کیا تھا تاہم اس حوالے سے ماہرین مختلف آرائ ظاہر کرتے آئے ہیں۔



















































