سری نگر(آن لائن)مقبوضہ کشمیرکے سا بق وزیراعلیٰ فاروق عبداللہ نے دعویٰ کیا ہے کہ نوازحکومت بھارت کے سابق وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی کا امن فارمولہ مشروط طورپر قبول کرنے کے لیے اب بھی تیار ہے۔بھارتی اخباردی ہندوکےمطابق فاروق عبداللہ نے یہ بات خصوصی انٹرویومیں بتائی۔ فاروق عبداللہ نے کہا کہ 1999ءمیں جب اٹل بہاری واجپائی لاہور گئے تھے توانہوں نے تجویز پیش کی تھی کہ پاکستان اپنی خودمختاری کو آزادکشمیر تک توسیع دے اور مقبوضہ کشمیر پربھارت کوایساکرنے کی اجازت دیدے۔فاروق عبداللہ نے انکشاف کیا کہ 2001ئمیں مشرف حکومت نے واجپائی کی تجویزمسترد کردی تھی۔آگرہ سربراہ اجلاس کے حوالے سے فاروق عبداللہ نے کہا کہ کوئی بھی یہ نہیں بتارہاکہ اس میں طے کیاپایاتھاسوائے اس کے معاملات قریبا ًحل ہوگئے تھے۔فاروق عبداللہ نے دعویٰ کیا کہ نوازحکومت سابق بھارتی وزیراعظم واجپائی کی تجویزایک شرط طورپر قبول کرنے کے لیے اب بھی تیارہے اوروہ شرط یہ ہے کہ مقبوضہ کشمیرکوخودمختاربنادیاجائے،ایسی صورت میں پاکستان آزادکشمیرکوبھی خودمختار بنادےگا۔فاروق عبداللہ نے نا م لیے بغیر دعویٰ کیا کہ وہ یہ بات پاکستان کی اعلیٰ قیادت سے بات چیت کے نتیجے میں کہہ رہے ہیں۔
دیکھئے شیریں مزاری کی بیٹی نے پی ٹی آئی کو کس طرح بدنام کر کے رکھ دیا
مزید پڑھئیے:ذولفقار مرزا کے ایان علی اور آصف زرداری کے بارے میں تہلکہ خیز انکشافات



















































