اسلام آ باد(نیوز ڈ یسک) گزشتہ دنوں شدید فروخت کے دباؤ کے بعد منگل کے روز سونے اور چاندی کی قیمتوں میں دو فیصد سے زائد اضافہ دیکھنے میں آیا، جس سے قیمتی دھاتوں کی مارکیٹ میں جزوی بحالی ریکارڈ کی گئی۔یہ بہتری اس پس منظر میں سامنے آئی جب امریکی فیڈ کے چیئرمین کے لیے کیون وارش کی نامزدگی اور سی ایم ای گروپ کی جانب سے مارجن کی شرائط سخت کرنے کے فیصلے کے باعث سونے اور چاندی کی قیمتیں کم ہو کر ایک ماہ کی نچلی سطح تک پہنچ گئی تھیں۔
رائٹرز کے مطابق عالمی مارکیٹ میں سپاٹ گولڈ 2.2 فیصد اضافے کے ساتھ 4,767.33 ڈالر فی اونس تک جا پہنچا، جبکہ ایک روز قبل یہ قیمت تقریباً ایک ماہ کی کم ترین سطح پر تھی۔ یاد رہے کہ گزشتہ جمعرات کو سونے نے 5,594.82 ڈالر فی اونس کی بلند ترین سطح کو چھوا تھا۔ اپریل ڈیلیوری کے لیے امریکی گولڈ فیوچرز میں بھی تیزی دیکھی گئی اور قیمت 3 فیصد اضافے کے بعد 4,791.10 ڈالر فی اونس ہو گئی۔مارکیٹ ماہرین کے مطابق موجودہ سطحیں نسبتاً متوازن نظر آتی ہیں کیونکہ حالیہ ہفتوں میں قیمتوں میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آیا تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ تازہ بحالی نے سونے کی قیمت کو جنوری کے دوسرے نصف کے آغاز کے قریب پہنچا دیا ہے۔اعداد و شمار کے مطابق جنوری کے دوران سونے کی قیمت میں تقریباً 13 فیصد اضافہ ہوا، جو نومبر 2009 کے بعد سب سے نمایاں ماہانہ اضافہ تھا، جبکہ چاندی کی قیمت میں 19 فیصد تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
تاہم کیون وارش کی نامزدگی کے بعد امریکی ڈالر کی مضبوطی اور مارجن کی شرائط میں اضافے نے قیمتی دھاتوں پر دباؤ ڈالا۔ سی ایم ای گروپ نے پیر کو مارکیٹ بند ہونے کے بعد قیمتی دھاتوں کے فیوچرز پر مارجن کی ضروریات میں اضافہ کر دیا تھا۔دوسری جانب امریکی لیبر بیورو نے بتایا ہے کہ جزوی سرکاری شٹ ڈاؤن کے باعث جنوری کی ملازمتوں سے متعلق رپورٹ جمعے کو جاری نہیں کی جائے گی۔سرمایہ کاروں کی جانب سے توقع کی جا رہی ہے کہ فیڈرل ریزرو 2026 کے دوران کم از کم دو مرتبہ شرح سود میں کمی کرے گا، اور عموماً کم شرح سود کے ماحول میں بغیر منافع دینے والا سونا بہتر کارکردگی دکھاتا ہے۔چاندی کی بات کی جائے تو سپاٹ سلور 2.8 فیصد اضافے کے ساتھ 81.61 ڈالر فی اونس تک پہنچ گئی، جبکہ پلاٹینم میں معمولی تیزی اور پیلیڈیم میں ہلکی سی کمی دیکھی گئی۔















































